مضامین بشیر (جلد 1) — Page 438
مضامین بشیر ۴۳۸ نو جوانوں کو اپنے سحر بھری تقریر سے ابھار رہے تھے اور میرا دل اس کش مکش میں پڑا ہوا تھا کہ خدایا میری آنکھیں یہ کیا نظارہ دیکھ رہی ہیں۔آخر میں نے یوں محسوس کیا کہ میرا دل آہستہ آہستہ ساکت ہو رہا ہے اور میری محویت کامل ومکمل ہو کر مجھے میرے ماحول سے نکال کر باہر لے گئی تب میرے دل میں ایک آواز پیدا ہوئی کہ تو کس بھنور میں پھنس گیا ہے ؟ کیا قربانی خود اپنے اندر ایک عظیم الشان پھل نہیں ؟ میں چونک کر بیدار ہوا اور ایک آن کی آن میں قربانی کا سارا فلسفہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور میں نے اپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کی لذت سے بڑھ کر کون سا پھل ہے اور پھر ایک ایک کر کے اس پھل کے مختلف نمو نے میری آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔ایک صحابی کی مثال سب سے پہلے میرے سامنے حضرت عبداللہ بن عمرو ( والد جابر بن عبد اللہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصویر آئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کے زمانہ میں جنگ احد شہید ہوئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے کہ عبداللہ کی قربانی پر خدا تعالیٰ ایسا خوش ہوا کہ اس نے عبداللہ سے بالمشافہ فرمایا کہ تیری قربانی سے ہم بہت خوش ہیں اس کے بدلہ میں تیرے دل میں جو بھی خواہش ہے تو اسے مانگ ہم اسے پورا کریں گے۔عبداللہ نے عرض کیا اے خدا وند عالم ! میرے دل میں سوائے اس کے کوئی اور خواہش نہیں کہ اگر تو چاہے تو میں پھر زندہ کیا جاوں اور پھر تیرے راستہ میں اسی طرح جان دوں ، میں نے عبداللہ ہاں رسول عربی کے صحبت یافتہ عبداللہ کا یہ جواب سنا اور سمجھ لیا کہ عبد اللہ کے نزدیک قربانی کی شیرینی قربانی کے انعام کی شیرینی سے بڑھ کر ہے کیونکہ عبداللہ نے اس وقت جبکہ وہ کامل انکشاف کو پا چکا تھا بلکہ اس گھر میں پہنچ چکا تھا جو سب سے بڑے انعام کا گھر ہے۔قربانی کی حالت کو انعام کی حالت پر ترجیح دی۔میں نے کہا سچ ہے قربانی خود ایک عظیم الشان پھل ہے اور یہ پھل قربانی کے انعام کے پھل سے بہتر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ پھر میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہ یہ الفاظ آئے کہ اگر مجھے ہر شب اور ہر روز آسمان سے آواز آئے کہ تیری ساری عبادت اور سارا جہاد اجر کے لحاظ سے بے ثمر ہے۔اس کا