مضامین بشیر (جلد 1) — Page 439
۴۳۹ مضامین بشیر تجھے کوئی بدلہ نہیں ملے گا اور تو ہماری طرف سے کوئی انعام حاصل نہیں کرے گا تو خدا کی قسم پھر بھی میری عبادت اور میری سعی جہاد میں ایک ذرہ بھر بھی فرق نہ آئے اور میں اپنے کام میں اسی طرح اور اسی ذوق شوق کے ساتھ لگا رہوں جس طرح کہ اب لگا ہوا ہوں کیونکہ میری جزاء انعام و اکرام میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خدمت اور اس کی محبت خود اپنی ذات میں میری جزا ہے۔میرے کانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان پیارے الفاظ کو سنا اور میرے دل نے پھر کہا سچ ہے خدا کے لئے اور اس کے دین کے لئے قربانی کرنا خود اپنے اندر ایک پھل ہے اور اس پھل کی شیرینی قربانی کے انعام کی شیرینی سے بہتر ہے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بالا آخر ایک بجلی کی کوند کی طرح میری آنکھوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ الفاظ پھر گئے کہ میری امت کی مثال ایک بارش کی طرح ہے جس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اول حصہ بہتر ہے یا کہ آخری حصہ ہے۔میں نے کہا بیشک یہ حدیث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بعثت پر بھی چسپاں ہوتی ہو گی اور ضرور ہوتی ہے مگر اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی زندگیوں کا ایک نقشہ کھینچا ہے اور فرمایا ہے کہ میرے صحابہ دوگروہوں میں منقسم ہیں ایک وہ جو صرف قربانی کا زمانہ پائیں گے اور قربانی کے انعام سے انہیں کوئی حصہ نہیں ملے گا جیسے بدر یا احد وغیرہ کے شہید اور دوسرے وہ جو لمبی زندگی پا کر اپنی ابتدائی قربانیوں کا کسی قدر پھل بھی چکھ لیں گے۔ان دو گروہوں کو اپنے سامنے رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے پہلا گر وہ افضل ہے یا کہ دوسرا گر وہ حالانکہ دوسرے گروہ نے قربانی سے بھی حصہ لیا تھا اور اس کے انعام سے بھی مگر خالی قربانی کا پھل جب کہ وہ انعام سے جدا ہو کر اپنی خالص تلخی میں میسر آئے اس قدر شریں ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شائد اس پھل کی شیرینی اس شیرینی سے بھی بڑھی ہوئی ہے جو قربانی اور اس کے انعام ہر دو کی شیرینی سے مرکب ہوتی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہی بات درست ہے کیونکہ خدائے حکیم کی قدرت نے اپنے برگزیدہ نبیوں کو اسی مقدم الذکر گر وہ میں شامل کیا ہے جنہیں اس دنیا میں قربانی کی تلخی کے سوا اور کوئی پھل نہیں ملتا اور ان کے لئے یہ تلخی ہی سب شیر مینوں کی سردار ہے۔