مضامین بشیر (جلد 1) — Page 437
۴۳۷ مضامین بشیر اسلام شہدائے بدر اپنے پرانے اور نئے دونوں وطنوں سے دور ایک پیتے ہوئے ریتلے میدان میں کفار کی تلوار سے کٹ کٹ کر تڑپتے ہوئے جان بحق ہو گئے۔ان لوگوں نے اسلام کے دنیوی انعاموں سے کچھ بھی حصہ نہ پایا اور صرف قربانی ہاں بظاہر تلخ ترین قربانی میں ہی اپنی ساری زندگی گزار دی۔انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ تا بعد میں آنے والے ان کی اس قربانی کا پھل کھا سکیں اور اس قسم کی دوسری مثالیں بیان کر کے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ کوئی قوم قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور قربانی کا عام اصول یہی ہے کہ قوم کا ابتدائی حصہ پھل کھانے کی امید ترک کر کے محض قربانی کے خیال سے ہی زندگی گزار دے۔گویا وہ اس معاملہ میں بھی قربانی دکھائے کہ پھل دوسروں کے لئے چھوڑ دے اور آپ بھوکا اور پیاسا رہنے کے لئے پیچھے ہٹ جائے۔ہولناک منظر جب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ تقریر فرما رہے تھے تو میں چند لمحوں کے لئے تقریر کی طرف سے کھویا جا کر اس خیال میں پڑ گیا کہ ہمارے خدا کا یہ قانون بھی عجیب ہے کہ ایک فریق قربانی کی تلخی میں زندگی گزار دیتا ہے اور انعام سے کوئی حصہ نہیں پاتا اور دوسرا مفت میں بغیر کسی محنت کے انعام حاصل کر لیتا ہے۔گویا ایک شخص فصل بونے کے لئے زمین میں ہل چلاتا ہے، سہا گا دیتا ہے، بیج ڈالتا ہے، پھر اسے پانی سے سینچتا ہے اور اس کی حفاظت میں اپنے دن کے چین اور رات کی راحت کو برباد کر دیتا ہے لیکن جب فصل پکتی ہے اور اس کی کٹائی کا وقت آتا ہے تو خدا ہاں ہما را رحیم و کریم خدا اس کی زندگی کا خاتمہ کر کے دوسرے لوگوں سے فرماتا ہے کہ اب تم آؤ اور اس فصل کا پھل کھاؤ۔دنیا میں ایک دوسرے کو سہارا دینے اور ایک دوسرے سے سہارا لینے کا یہی قانون سہی مگر عدل و انصاف کے سرچشمہ کی حکومت میں یہ ظاہر میں نظر آنے والی بے انصافی بھی دل کو کپکپا دینے والی چیز ہے۔اس خیال سے میرا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا اور میرے بدن میں لرزہ پیدا ہو گیا کہ خدا یا تیری رحم و انصاف کی حکومت میں یہ ایک کیسا ہولناک منظر ہے جو نظر آ رہا ہے کہ جو قربانی کرتا ہے وہ محروم جاتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ پھل کھاتا ہے۔قربانی کا فلسفہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اس اصول کو تکرار کے ساتھ بیان کر کے جماعت کے