مضامین بشیر (جلد 1) — Page 436
مضامین بشیر ۴۳۶ کون بہتر ہیں قربانی والے یا انعام والے میری ایک جاگتے کی خواب ایک خاص نکتہ گزشتہ جمعرات کے دن حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں ایک نہایت لطیف تقریر فرمائی ، جس کا ایک خاص نکتہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں کی ترقی کے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ ان کا ابتدائی حصہ قربانی کرتا ہے اور آخری حصہ انعام پاتا ہے اور کوئی قوم ابتدائی قربانی کی بھٹی میں سے گزرے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔لیکن یہ ایک عجیب نظارہ ہے کہ بالعموم قوم کا وہ حصہ جو قربانی کرتا ہے وہ خود اپنی اس قربانی کے پھل کو چکھنے کا موقع نہیں پاتا بلکہ اس کا زمانہ بظاہر قربانی کی انتہائی تلخی میں ہی گزر جاتا ہے اور جب پھل کا وقت آتا ہے تو دوسرے لوگ آ موجود ہوتے ہیں ، جنہوں نے اس رنگ کی اور اس درجہ کی قربانیاں نہیں کی ہوتیں۔صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں اور ان کے پھل چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ایسی ایسی قربانیاں کیں کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور خدا کی خاطر اور اس کے دین کی خاطر انتہائی تلخی کی زندگی کو اختیار کیا اور دنیا کی ہر نعمت اور ہر آرام ہر راحت کو اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے قربان کر دیا مگر کم از کم صحابہ کا ایک حصہ ایسا تھا جو اس قربانی کے کے زمانہ میں ہی گزر گیا اور اس نے اس انعام کا کوئی حصہ نہ پایا جو بعد کا زمانہ پانے والوں کو حاصل ہوا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مثالاً فرمایا کہ جو صحابی بدر کی جنگ میں شہید ہوئے انہوں نے بظاہر اسلام کی ظاہری شان و شوکت اور اپنی قربانی کا ظاہری انعام کیا دیکھا۔مکہ میں تیرہ برس وہ کفار کے سخت ترین مظالم کا نشانہ رہے اور جب مکہ سے بھاگ کر مدینہ میں آئے تو یہاں بھی ان کفار نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور ابھی ہجرت پر ڈیڑھ سال بھی نہ گزرا تھا کہ یہ فدائیان