مضامین بشیر (جلد 1) — Page 417
۴۱۷ مضامین بشیر تقویٰ کی روح بھی تلاش کرو تم میں سے جسے خدا توفیق دے وہ تقویٰ کی روح کو بھی تلاش کرے جس کا نام عشق الہی ہے جس کے بعد انسانی اعمال کی عمارت جزا سزا کی قیود سے آزاد ہو کر محض اور خالصہ عشق الہی کی بنیاد پر قائم ہو جاتی ہے لیکن اگر یہ نہیں یا جب تک یہ نہیں اس وقت تک کم از کم تقویٰ تو ہو۔جو گو یا اعمال صالحہ کی جان ہے جس کے بغیر قطعاً کوئی زندگی نہیں۔یقیناً اعمال کا ایک پہاڑ ا گر وہ تقویٰ سے خالی ہے مٹی اور خاک کے تو وہ کے سوا کچھ نہیں جس پر خدائی رحمت کے فرشتے تھوکتے بھی نہیں۔مگر اچھے عمل کا ایک چھوٹا سا ذرہ اگر وہ تقویٰ کی روح سے معمور ہے تو وہ خدا کی نظر میں ایسا مقبول اور محبوب ہے کہ رحمت کے فرشتے اسے خدا کے حضور پہونچانے کے لئے شوق کے ساتھ لپکتے ہیں کیونکہ یہ گو مقدار میں کم ہے مگر ایک زندہ طاقت ہے اور وہ گو مقدار میں زیادہ ہے مگر ایک مردہ اور متعفن لاش سے بڑھ کر نہیں۔پس جس طرح میں نے اپنے مضمون کے شروع میں کہا ہے اب آخر میں پھر کہتا ہوں کہ بھائیو! تقویٰ پیدا کر و تقویٰ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔اور ہمیں اس رستہ پر چلائے جو اس کی کامل رضا کا رستہ ہے وہ ہمیں سچا ایمان دے۔اور ہمارے ایمانوں کو یقین کی دولت سے مالا مال کرے پھر ہمیں عملِ صالحہ عطا کرے اور ہمارے اعمال کو تقویٰ کی روح سے زندگی بخشے۔اور بالآخر ہمارے تقویٰ کو جزا سزا کے خیال سے اوپر اٹھا کر اس ارفع مقام پر کھڑا کر دے۔جہاں ہر عمل کی بنیاد محض عشق الہی پر قائم ہوتی ہے۔اے اللہ تو ایسا ہی کر۔امین اللهم امين (مطبوعہ الفضل ۱۲۶ کتوبر ۱۹۴۰ء)