مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 416

مضامین بشیر دوست تقویٰ پیدا کریں مگر یہ ایک نہائت ارفع مقام ہے جو سب لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا اور نہ اس وقت یہ چیز میرے موجودہ مضمون کا موضوع ہے بلکہ اس وقت میرا مضمون صرف تقویٰ پر ہے جو عمل صالحہ کی روح ہے جس کے بغیر کسی عمل کو خواہ وہ دیکھنے میں کیسا ہی عالی شان نظر آئے خدا کے دربار میں کوئی وقعت حاصل نہیں ہوتی۔اور میں بتا چکا ہوں کہ تقویٰ اس جذبہ کا نام ہے جس کے ماتحت انسان خدا کی ناراضگی کے موقعوں سے بچتا اور اس کے رضا کے موقعوں کی تلاش کرتا ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں۔یعنی ان کے ہر عمل کی تہہ میں یہ نیت ہو کہ اس ذریعہ سے ہما را خدا راضی ہو جائے یا ہم اس سے اپنے خدا کی ناراضگی سے بچ جائیں مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ تقویٰ کی اس دولت سے محروم ہوتے ہیں۔وہ نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور بظاہر اعمال صالحہ میں خوب شغف دکھاتے ہیں اور بسا اوقات ایمان و اخلاص کے دعوی میں دوسروں سے پیش پیش نظر آتے ہیں۔مگر ان کا دل تقویٰ سے خالی ہوتا ہے وہ نما ز پڑھ کر اور لمبے لمبے سجدوں سے اپنے ماتھوں کو خاک آلود کر کے مسجد سے باہر آتے ہیں اور باہر آتے ہی کمزور لوگوں کی حق تلفی اور اکل بالباطل اور بے انصافی اور جھوٹ اور فریب کے چشمہ سے اس طرح مونہ لگا دیتے ہیں کہ گویا وہ ان کے لئے شیر مادر ہے۔ایسے لوگوں کو بیشک اعمال کے جسم پر قبضہ حاصل ہوتا ہے۔مگر یہ جسم اسی طرح روح سے خالی ہوتا ہے، جس طرح ایک اجڑا ہوا مکان مکین سے خالی ہوتا ہے۔ان کے ہاتھ میں ایک برتن ہوتا ہے۔جسے وہ بڑے حاسدانہ انداز میں اپنے سینہ سے لگائے رکھتے ہیں مگر اس برتن کا دودھ جو انسان کی اصل غذا ہے وہ یا تو کبھی اس برتن میں آیا ہی نہیں ہوتا۔یا اگر آیا ہوتا ہے تو ان کی غفلت سے گر کر ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔پس دوستو تقوی پیدا کرو کہ اس کے بغیر تمہارا ہر عمل ایک بے جان جسم سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا روپے کی تعداد پر مت تسلی پاؤ بلکہ یہ دیکھو کہ تمہارے پاس جو مال ہے اس میں کھرے روپے کتنے ہیں اور کھوٹے کتنے۔کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کروڑ کھوٹے روپے جن سے کوٹھوں کے کو ٹھے بھرے ہوں ، ان سے وہ بظاہر حقیر نظر آنے والا ایک کھرا روپیہ بہتر ہے جو ایک چھوٹی سی جیب میں سما کر محسوس بھی نہیں ہوتا کیونکہ گو وہ بہت ہیں مگر کھوٹے ہیں اور گو یہ صرف ایک ہے مگر کھرا ہے۔