مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 415 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 415

۴۱۵ مضامین بشیر اس شعر میں بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کو جام قرار دیا ہے جو گویا جسم اور ظرف کے مترادف ہے حالانکہ میں نے اس مضمون میں تقویٰ کو ظرف کے مقابل پر بطور روح کے پیش کیا ہے۔بے شک بظاہر یہ ایک تضاد کا رنگ ہے مگر حقیقی تضاد نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نہائت لطیف بات بیان فرمائی ہے جو میرے بیان کردہ مضمون کے مقابل پر نہیں بلکہ اس سے اگلے مراتب سے تعلق رکھتی ہے۔بات یہ ہے کہ تقوی کے دو پہلو ہیں ایک پہلو سے وہ عمل صالحہ کی روح ہے اور دوسرے پہلو سے وہ خود جسم ہے اور خدا کا عشق اس کی روح ہے۔گویا عمل صالحہ کے جسم کے اندر تقویٰ کی روح ہوتی ہے اور پھر تقویٰ کے اندر ایک اور لطیف روح ہوتی ہے جسے عشق الہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اور اس روح کے لئے تقویٰ کا وجود بطور جسم کے ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے سورہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ۲۵۰ د یعنی خدا کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نہایت صاف اور صیقل شدہ خول ہو۔جو طاقچہ کی صورت میں پیچھے سے بند ہو۔اور اس خول کے اندر ایک شفاف شیشہ کا قمقمہ ہوا اور پھر اس قمقمہ کے اندر ایک چراغ ہو جس کے نتیجہ میں یہ چراغ ایک چمکتے 66 ہوئے ستارے کی طرح جگمگانے لگے۔“ اس آیت کی تشریح سے ہمیں اس جگہ سرو کار نہیں مگر اس سے اس بات کی ایک عمدہ مثال ملتی ہے کہ کس طرح ایک چیز کے اندر دوسری چیز اور دوسری کے اندر تیسری چیز ہو سکتی ہے اور پھر کس طرح یہ تینوں مل کر ایک غیر معمولی نور پیدا کر دیتی ہیں۔اس تشریح کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کا یہ مطلب ہے کہ عمل صالحہ کی روح تقویٰ ہے اور تقویٰ سے آگے ایک اور لطیف چیز ہے جو گویا تقویٰ کی بھی روح ہے اور اس چیز کا نام عشق الہی ہے گویا عمل صالحہ کی بنیا د تقویٰ پر ہونی چاہیئے۔یعنی ہمارے اعمال رسم یا عادت یا نمائش کے طور پر نہ ہوں بلکہ خدا کی رضا جوئی پر مبنی ہوں اور پھر خدا کی یہ رضا جوئی جزا سزا کے خیال پر مبنی نہ ہو بلکہ عشق الہی پر مبنی ہو۔یہ ایک بہت بڑا مرتبہ ہے جو صرف خاص خاص لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔جن کے اعمال کی بنیاد خالصۂ عشق الہی پر مبنی ہوتی ہے۔اور جزا سزا کا خیال تک بھی درمیان میں نہیں آتا۔تقویٰ کا یہ مقام مکمل یا تام تقویٰ کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔مجھے تو نے یہ دولت اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْإِعَادِي