مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 402 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 402

مضامین بشیر کے ذریعہ ایک پختہ وعدہ دے کر اسے ایک بد کردار قوم کی گریہ وزاری سے بدل دیا تھا۔تو کیا وہ خدا اپنے پیارے مسیح کی پیاری قوم کی متضرعانہ دعاؤں پر اپنے ایک برگزیدہ خلیفہ کے متعلق اپنی تقدیر کو بدل نہیں سکتا ؟ بد قسمت ہے وہ انسان جو اپنے خدا پر بدظنی کرتا ہے اور اسے ہر کام میں قادر خیال نہیں کرتا۔بے شک وہ ہما را آتا ہے اور ہم اس کے غلام اور اس کی شان خداوندی بعض اوقات اس رنگ میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بات ہی منواتا ہے خواہ وہ کتنی ہی تلخ ہومگر یہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ اس معاملہ میں خدائی تقدیر ائل اور مبرم ہے۔پس ہمیں چاہیئے کہ اس رمضان میں خاص طور پر حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے دعائیں کریں۔انفراداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی تا کہ ہماری تضرعات کو دیکھ کر خدا ہمارے امام کی عمر کو لمبا کر دے اور ان کے سایہ کو ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھے۔اجتماعی دعا کے لئے یہ طریق بہتر ہے کہ جہاں تراویح کی نماز ہوتی ہے وہاں نماز تراویح کے اندر دعا کرنے کے علاوہ تراویح کے اختتام پر تمام حاضر الوقت لوگ مل کر دعا کریں۔نماز تراویح وہ نماز ہے جس کے متعلق قرآن شریف اَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ل کے الفاظ فرماتا ہے یعنی یہ نماز تکلیف دہ تقدیروں کو دبانے میں سب سے زیادہ موثر اور خدا کے حضور عرض و معروضات پیش کرنے کے لئے سب سے بہتر موقع ہے۔لیکن جہاں تراویح کا انتظام نہ ہو وہاں عشاء یا صبح کی نماز کے بعد ہی اجتماعی صورت میں دعا کی جاسکتی ہے۔اور یہ دعا اس دعا کے علاوہ ہوگی جو نمازوں کے اندر کی جاتی ہے۔اسی طرح جن دوستوں کو توفیق ہو وہ صدقہ و خیرات بھی کریں بلکہ اگر پہلے کر چکے ہوں مگر دوبارہ کرنے کی بھی توفیق رکھتے ہوں تو بہتر ہے کہ دوبارہ بھی کر دیں۔صدقہ کے لئے بکر اوغیرہ ذبح کر کے بلحاظ مذہب غربا اور یتامی و بیوگان میں تقسیم کرنا اور کچھ حصہ جانوروں کو ڈال دینا عمدہ طریق ہے۔یا غرباء کو کھانا پکا کر کھلا دیا جائے۔یا اب جبکہ سردیاں آرہی ہیں حاجت مندوں کو سردی کے پار چات بنوا دیے جائیں۔یا کسی غریب بیمار کو ادویہ مہیا کر دی جائیں۔یا کسی حاجت مند کی نقد امداد کر دی جائے یا کوئی اور مناسب طریق اختیار کیا جائے مگر سب سے بہتر قربانی اپنے نفسوں کی قربانی ہے جس کے لئے رمضان کا مہینہ بہت خوب ہے۔ایک لعنتی خیال یہ خیال کرنا کہ یہ سلسلہ خدا کا ہے اور وہ خود ہی اس کا حافظ و ناصر ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق کچھ فکر یا تگ و دو کی ضرورت نہیں ایک لعنتی خیال ہے کیونکہ اول تو یہ خیال جذبات محبت و احسان