مضامین بشیر (جلد 1) — Page 401
۴۰۱ مضا مین بشیر ہے اور مسندِ خلافت پر آنے کے بعد آپ کی ارفع شان ان خدائی تائیدات سے ظاہر ہے جو ہر قدم میں آپ کے ساتھ ساتھ رہی ہیں۔اس بات میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ آپ کی خلافت کا زمانہ تاریخ احمدیت کا ایک ایسا چمکتا ہوا اور ق ہے کہ اس کی نظیر دوسری خلافتوں میں بہت کم نظر آتی ہے۔آپ کے عہد مبارک میں جماعت نے نہ صرف علم ظاہر و باطن میں بلکہ تربیت میں تنظیم میں اور تبلیغ میں اس درجہ ترقی کی ہے کہ دشمن بھی حیرت سے انگشت بدنداں ہے اور آپ کی قیادت میں جماعت کے رعب میں بھی فوق العادت رنگ میں اضافہ ہوا ہے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے لئے دُعا ئیں وقف کی جائیں باپ کا وہ منصب ہے کہ اگر وہ نالائق بھی ہو تو پھر بھی سعیداولاد کی نظروں میں محبوب ہوتا ہے۔تو پھر اس باپ کا کیا کہنا جو اپنی اولاد کے لئے سراسر شفقت و رحمت ہے اور یقیناً جو محبت جماعت کو اپنے امام کے ساتھ ہے وہ بھی امام کی شان کے مطابق ہے مگر یہ ایک قدرتی تقاضا ہے کہ اولاد کی محبت اور قربانی کی رُوح باپ کے متعلق خطرہ کے احساس سے اور بھی زیادہ ترقی کرتی ہے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس خطرہ کو جو اس وقت متعد دلوگوں کی خوابوں کے ذریعہ ہماری نظروں سے قریب کر دیا گیا ہے۔محسوس کرتے ہوئے اپنی قربانیوں کا ایک عظیم الشان بند کھڑا کر کے اس خطرہ کے سیلاب کو روک دیں۔یہ خوابیں یونہی پریشان خیالیاں نہیں ہیں بلکہ مختلف لوگوں کو مختلف مقامات اور مختلف حالات میں مختلف قسم کے نظاروں میں دکھائی گئی ہیں۔پس ایک سادہ لوح کبوتر کی طرح آنے والے خطرہ سے محفوظ رہنے کے لئے اپنی آنکھوں کو بند کر لینا ہر گز دانائی کی راہ نہیں بلکہ ہمیں خدائی تقدیر کے ہاتھ کو چشم بصیرت سے دیکھ کر اپنی دعاؤں اور صدقہ و خیرات سے اس تقدیر کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اسلام کا خدا وہ خدا نہیں جو اپنی قضاء وقد ر کا غلام ہو بلکہ وہ ایک قادر مطلق خدا ہے جو اپنی تقدیر پر بھی اسی طرح غالب ہے جس طرح کسی اور چیز پر اور وہ اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ اپنے بندوں کی دعاؤں اور التجاؤں سے اپنی تقدیر کو بدل دے۔پس ان عظیم الشان احسانوں کو دیکھتے ہوئے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جماعت پر ہوچکے ہیں اور ان عظیم الشان برکات پر نگاہ رکھتے ہوئے جو آپ کی ذات والا صفات سے وابستہ ہیں، ہمیں اس رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنی خاص دعاؤں کو آپ کے لئے وقف کر دینا چاہیئے تا خدا ہماری زاری اور بے بسی کو دیکھ کر اپنی تقدیر کو بدل دے۔اسلام کا خدا تو وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یونس