مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 403 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 403

۴۰۳ مضامین بشیر مندی کے سراسر خلاف ہے دوسرے خدا نے دنیا کو اسباب و علل کا گھر بنایا ہے اور اسباب روحانی بھی اس میں شامل ہیں۔تیسرے ہمیں خود تعلیم دی ہے کہ تم ہر دینی اور دنیوی امر میں مجھ سے مدد چاہو۔پس اس تعلیم کے ہوتے ہوئے کون شخص ہے کہ جو آنے والے خطرہ کو دیکھ کر خاموش رہ سکتا ہے بلکہ خدائی کام اس بات کا بہت زیادہ ہے کہ انسان اس کے لئے فکرمند ہو۔ایک خاص بات ایک اور جہت سے بھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ ہم آپ کے لئے اپنی بہترین دعائیں وقف کریں اور یہ ایک خاص بات ہے جو میں اس وقت دوستوں کے سامنے پیش کرنے لگا ہوں۔خدائی سلسلوں کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید خدا کی طاقت کے مطابق نازل نہیں ہوتی بلکہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کے ظرف اور قوتِ جذب کے مطابق نازل ہوا کرتی ہے۔یعنی خدائے حکیم نے ایسا قانون بنا رکھا ہے کہ ان کا موں میں جو گویا خدا کے اپنے کام ہیں اور خود خدا ہی کے جاری کردہ ہیں خدا کی نصرت کا اظہار ہر نبی اور اس کی جماعت کی حالت کے مطابق ہوتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ چونکہ کام خدا کا ہے اس لئے ہر نبی اور اس کی جماعت کے متعلق خدا کی نصرت ایک ہی رنگ میں اور ایک ہی درجہ پر ظا ہر ہو۔بے شک ہم بعض اوقات خدا کی قدرت کے اظہار کے لئے اس قسم کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ خدا اپنی تقدیر کے نفاذ کے لئے ایک مٹی کے ڈھیلے سے بھی ایسا ہی کام لے سکتا ہے۔جیسا کہ ایک زبر دست انسان سے اور ہر تلوار خواہ وہ کیسی ہی گند ہو اس کے ہاتھ میں جا کر ایک تلوار جو ہر وار کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اور یہ سب باتیں درست بھی ہیں بلکہ مطلقاً خدا کی قدرت کے لحاظ سے ان باتوں سے بہت بڑھ چڑھ کر باتیں بھی ممکن ہیں مگر جہاں تک انسانوں کے ذریعہ خدا کی قدرت کے اظہار کا تعلق ہے عام حالات میں ایسا نہیں ہوتا۔بلکہ عام قاعدہ یہی ہے کہ خدائی قدرت اور خدائی طاقت کا اظہار اس بندے یا جماعت کے ظرف کے مطابق ہوتا ہے جس کو خدا ایسے اظہار کا آلہ بنائے۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں ہر نبی کو ایک جیسی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔حالانکہ ہر نبی کے وقت خدائی تقدیر یہی ہوتی ہے کہ وہ اس نبی کی لائی ہوئی صداقت کو غلبہ اور ترقی دے۔حتی کہ جہاں بعض انبیاء کو اس قدر کم کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ وہ کوتاہ بینوں کے خیال میں بظاہر نا کام نظر آتے ہیں۔وہاں بعض انبیاء کو ایسے حیرت انگیز رنگ میں غلبہ حاصل ہوا ہے کہ دُنیا کی نظریں خیرہ ہوتی ہیں۔حالانکہ دونوں کے پیچھے ایک ہی قسم کی خدائی تقدیر کام کرتی ہے۔اس فرق کی یہی وجہ ہے کہ خاص