مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 400

۴۰۰ مضامین بشیر ہماری بے کسی اور بے بسی کو دیکھ کر خدائے رحیم و کریم کی رحمت جوش میں آئے۔اور ان اللہ غالب علیٰ امرہ کے ازلی اصول کے ماتحت خدا کی ایک تقدیر اس کی دوسری تقدیر کو دھکیل کر پیچھے کر دے اور دوسری طرف ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا محاسبہ کر کے اپنے آپ کو اوپر اٹھانے کی اس حد تک کوشش کریں اور اپنے علم اور اپنے ایمان اور اپنے عمل اور سب سے بڑھ کر اپنے تقوی کو اس درجہ جلا دے دیں کہ خدا کی ہر تقدیر ہمیں ہر قسم کے حالات کے لئے تیار پائے اور کوئی مصیبت خواہ وہ کتنی ہی بھاری ہو۔ہماری ترقی کی رفتار کو سست نہ ہونے دے بلکہ ایک تازیانہ کا کام دے کر ہمارے قدم کو اور بھی تیز کر دے۔یہ وہ دوہری ذمہ واری ہے جو اس وقت ہم پر عائد ہوتی ہے اور ہر بچے احمدی کو اس ذمہ واری کے لئے پوری مستعدی کے ساتھ تیار ہو جانا چاہیئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا مبارک وجود حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا وجود باجود نہ صرف اپنی عظیم الشان عملی برکات کی وجہ سے جو ہر قدم میں آپ کے ساتھ رہی ہیں بلکہ ان زبر دست خدائی شہادات کی بنا پر بھی جو آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں پائی جاتی ہیں، جماعت کے لئے ایک ایسا مبارک وجود ہے کہ اس پر خدا کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔آپ کے وجود کو گویا خدائی تقدیر نے ابتداء سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات والا صفات کے ساتھ اس طرح جوڑ رکھا ہے جس طرح دو تو ام بچے آپس میں جڑے ہوئے پیدا ہوتے ہیں۔ابتداء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے ساتھ ملا کر يَتَزَوْجُ وَيُولَدُل کے الفاظ فرمائے اور گویا دونوں پیشگوئیوں کو ملا کر ایک کر دیا۔پھر درمیانی صلحاء نے بھی اکثر صورتوں میں مسیح موعود کے ساتھ اس کے پسر موعود کو ملا کر بیان کیا جیسا کہ نعمت اللہ صاحب ولی کا یہ شعر ظاہر کرتا ہے۔کہ ع دور پسرش او چون شود تمام بکام یادگار می بینم ۱۵ اور بالآخر جب خود مسیح موعود کی بعثت کا وقت آیا تو خدا نے آپ کو منصب ماموریت پر فائز کر نے کے ساتھ ہی پسر موعود کی بھی بشارت عطا کی۔اور پھر تقدیر الہی نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی ولادت کو بھی اسی سال میں رکھا جس سال میں کہ جماعت احمدیہ کی داغ بیل قائم ہوئی۔اس طرح بلا شک حضرت خلیفہ اسیح کا وجود سلسلہ احمدیہ کے لئے ایک تو ام بھائی کی حیثیت رکھتا