مضامین بشیر (جلد 1) — Page 394
مضامین بشیر ۳۹۴ دانستہ اس غلطی کا اسے غلطی سمجھتے ہوئے ارتکاب کیا ہو بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے اسے غلطی نہیں جانا اور یونہی ایک تفریح کے رنگ میں شادی کے ماحول کو بظاہر خوشگوار بنانے کی خاطر یہ کام کیا ہوگا اور دُعا کے وقت میں گانے کا جاری رہنا تو یقیناً غلط فہمی کا نتیجہ تھا مگر ہمارے دوستوں کو یا د رکھنا چاہیئے کہ دُنیا میں اکثر تباہیاں ان غلطیوں کی وجہ سے نہیں آتیں جو جان بوجھ کر کی جائیں بلکہ زیادہ تر ان غلط فہمیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ سے آتی ہیں جن کا ارتکاب نا دانستہ طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ جان بوجھ کر غلطی کرنے والے بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔مگر غفلت اور بے احتیاطی برتنے میں ایک قوم کی قوم ملوث ہو سکتی ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ آج کی نادانستہ غلطی کچھ عرصہ کے بعد دانستہ غلطی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔پس غور کیا جائے تو دیدہ و دانستہ غلطی کی نسبت ایک لحاظ سے غفلت اور بے احتیاطی کا ارتکاب زیادہ خطر ناک ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ مختصر مگر ہمدردانہ نصیحت ایسے دوستوں کے لئے مفید ثابت ہو گی جو ہر نیکی کی بات کو خوشی اور شوق سے قبول کرنے کے متلاشی رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہوا اور ہمیں ہر قسم کی بدعتوں اور ٹھوکروں سے بچا کر اپنے رضا کے رستے پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ہاں ایک ضروری بات میں بھول گیا۔وہ یہ کہ جب کمروں کے اندر سے گانے کی آواز آنی شروع ہوئی تو میرے قریب ایک بزرگ نے جو دینی عالم بھی ہیں اپنے ایک ساتھی سے فرمایا کہ شادی کے موقع پر گانا جائز ہے۔میں ان بزرگ کے مقابل پر ہر گز کسی علمی تفوق کا مدعی نہیں مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ رائے جو انہوں نے ظاہر فرمائی درست نہیں۔بے شک نکاح کے موقع پر اعلان کی غرض سے ڈھول وغیرہ بجانا جائز ہے اور احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات شادی وغیرہ کے موقع پر مستورات گھروں کے اندر گانے وغیرہ کا شغل بھی کر لیتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شغل کو منع نہیں فرمایا مگر ان دونو باتوں سے وہ نتیجہ نکالنا جوان بزرگ نے نکالا ہے، میری رائے میں درست نہیں کیونکہ نکاح کے وقت کا باجا تو محض اعلان کی غرض سے ہے اور گھروں کے اندر علیحدگی میں عورتوں کا کوئی شغل کر لینا ایک پرائیویٹ چیز ہے مگر یہاں جو طریق اختیار کیا گیا وہ بالکل جدا گانہ رنگ رکھتا ہے کیونکہ یہاں ایک دعوت ولیمہ میں جبکہ مرد و عورت صرف ایک دیوار کے فاصلہ سے اکٹھے بیٹھے تھے عورتوں کا گانا ایک پبلک مشغلہ کے طور پر سنایا گیا اور ان دونوں صورتوں میں بہت بھاری فرق ہے۔اگر میرے کسی دوست کو یہ فرق علمی رنگ میں نظر نہ آئے تو وہ اس طرح خیال فرما سکتے ہیں کہ جہاں ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کے گھروں میں شادیوں وغیرہ کے موقع پر عورتیں پرائیویٹ طور پر گانے کا شغل کرتی رہی ہیں۔وہاں