مضامین بشیر (جلد 1) — Page 393
۳۹۳ مضامین بشیر ہیں جو انہوں نے تازہ خبروں کے سننے کی غرض سے لگا رکھے ہیں اور کبھی کبھی وہ یا ان کے اہل وعیال ان ریڈ یوسیٹوں پر موسیقی کا پروگرام بھی سُن لیتے ہوں گے۔اور میں ذاتی طور پر اس میں چنداں ہرج نہیں دیکھتا بشر طیکہ گانا بُرا نہ ہو۔اسی طرح میں جانتا ہوں کہ بعض لوگوں کے پاس گراموفون بھی ہیں جنہیں وہ اپنے گھروں میں پرائیویٹ طور پر استعمال کرتے ہیں اور حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک خطبہ میں ان گراموفون باجوں کے متعلق اصولی طور پر فرما چکے ہیں کہ خیـرهـا خیر و شرها شر۔پس اگر کوئی شخص اپنے گھر میں پرائیویٹ طور پر کبھی کبھی موسیقی سن لیتا ہے تو اگر یہ موسیقی اپنے اندر کوئی مخرب اخلاق یا نا جائز عصر نہیں رکھتی تو مجھے یا کسی اور شخص کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ حد اعتدال سے تجاوز کر کے انہاک اور ضیاع وقت کا موجب نہ ہونے لگے مگر جس بات نے مجھے اس دعوتِ ولیمہ میں تکلیف دی وہ یہ تھی کہ ایک مسنون رنگ کی دعوت میں جس میں مرد و عورت کا اس قدر قریب کا اجتماع تھا باجے اور موسیقی کا پلک مشغلہ کیا گیا جو میرے خیال میں ان حدود کے سراسر منافی ہے جو شریعت اسلامی ان معاملات میں قائم کرنا چاہتی ہے۔اور پھر یہ گانا عورتوں کا گا نا تھا جو دُعا تک میں یا کم از کم اس کے ایک حصہ میں جاری رہا۔میں اپنے دوستوں سے بڑی محبت اور ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ ایک غیر اسلامی حکومت کی وجہ سے ہم پہلے سے ہی دجالی تہذیب کے بہت سے پھندوں میں گرفتار ہیں۔پس خدارا وہ اپنے ہاتھ سے ہمارے ان پھندوں کی تعداد میں اضافہ نہ کریں۔ایسی باتوں میں یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ ایک معمولی بات ہے۔دُنیا میں اکثر معمولی نظر آنے والی باتیں بالآخر وسیع اور خطرناک نتائج کا باعث بن جایا کرتی ہیں۔پس عقلمند آدمی کا یہ کام ہے کہ چیزوں کی ابتدا کو نہیں بلکہ ان کی انتہاء کو دیکھے اور آگ کی ایک چھوٹی سی چنگاری میں اس وسیع اور مہیب آگ کا نظارہ کرے جو بڑے بڑے شہروں اور آبادیوں کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔جب کسی دریا کا بند ٹوٹتا ہے تو شروع میں وہ عموماً ایک سوئی کے ناکے سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا لیکن اگر اس کا بروقت انسداد نہ کیا جائے تو یہی سوئی کا سا سوراخ ایک دوسرے دریا کی شکل اختیار کر کے وسیع علاقوں کے علاقے ڈبو دیتا ہے۔پس مجھے اندیشہ ہے کہ جس بدعت کا اب آغاز ہوا ہے ( اور خدا کرے یہ آغاز ہی اس کا انجام ثابت ہو ) وہ آہستہ آہستہ ہماری مجلسوں کو ان دجالی مجالس کا رنگ نہ دیدے جن میں موسیقی اور خصوصاً عورت کی موسیقی ہر سوشل تقریب کی جان سمجھی جاتی ہے۔میں ہر گز یہ خیال نہیں کرتا کہ جن دوست کے مکان پر یہ بدعة سيئة ظاہر ہوئی ہے انہوں نے