مضامین بشیر (جلد 1) — Page 372
مضامین بشیر خان بهادر مولوی غلام حسن خان صاحب کی بیعت خلافت اور شکریہ احباب محترمی خان بهادر مولوی غلام حسن خان صاحب کی بیعت خلافت کی خبر الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے مولوی صاحب موصوف میرے نسر اور میری رفیقہ حیات کے والد محترم ہیں۔اس لئے ان کی بیعت پر ہمیں طبعاً نہائت درجہ خوشی ہوئی ہے اور ہمیں اس خوشی پر بہت سے احباب کی طرف سے مبارکباد کے خطوط موصول ہو رہے ہیں۔میں اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ان جملہ احباب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ہی ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خدا کے حضور دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مولوی صاحب موصوف کی بیعت کو خو د مولوی صاحب کے لئے اور ہمارے لئے اور جماعت کے لئے ہر رنگ میں بابرکت کرے۔آمین جیسا کہ اخبار میں اعلان ہو چکا ہے، مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم اور ممتاز صحابیوں میں سے ہیں اور خدا کے فضل سے انہیں اوائل زمانہ میں اچھی خدمت کا موقع ملتا رہا ہے۔لیکن جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مولوی صاحب موصوف غیر مبایعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور ایک عرصہ دراز تک اُن کے ساتھ رہے مگر اب ایک لمبے زمانہ کے بعد جو چوتھائی صدی سے بھی زیادہ ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل اور رحم کے ساتھ پھر جماعت میں منسلک ہونے اور دامنِ خلافت کے ساتھ وابستگی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔فالحمد لله على ذالك والله يهدي من يشاء الى صراط المستقيم۔سب سے بڑی بات جس نے مولوی صاحب موصوف کی طبیعت پر خاص اثر پیدا کیا وہ یہ ہے جسے وہ اپنی کئی مجلسوں میں بیان فرما چکے ہیں کہ جہاں لاہوری پارٹی اس جگہ کھڑی ہے جس جگہ کہ وہ آج سے پچیس سال قبل تھی بلکہ وہ اپنے سابقہ مقام سے بھی نیچے گر گئی اور گر رہی ہے، وہاں قادیان کے ساتھ ہر قدم پر خدا کی نصرت کا ہاتھ نظر آرہا ہے اور اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی قیادت میں