مضامین بشیر (جلد 1) — Page 327
۳۲۷ مضامین بشیر بریکاری کے اخلاقی اور دینی پہلو کا تعلق ہے بریکاری کے مرض کو ایک دن میں نابود کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے لئے کسی نوکری یا نفع مند کام کے تلاش کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ بیکا رلوگ اپنی بے کاری کو چھوڑ کر کسی ذاتی یا خاندانی۔یا قومی یا دینی کام میں لگ جائیں ، خواہ وہ آنریری ہی ہو اور خواہ اس کے بدلے میں انہیں ایک پیسہ بھی حاصل نہ ہو۔اس طرح اقتصادی لحاظ سے وہ اپنا کوئی نقصان نہیں کریں گے کیونکہ وہ پہلے بھی نہیں کماتے تھے اور اب بھی نہیں کمائیں گے۔مگر اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ اپنے آپ کو خطرناک نتائج سے محفوظ کر لیں گے اور ان کی آنریری خدمات سے ان کے خاندان یا قوم یا ملک یا دین کو جو فائدہ پہونچے گا وہ مزید برآں ہو گا۔مثلاً ایک شخص زید نامی بے کار ہے۔اب قطع نظر اس کے کہ اس کی یہ بیکاری کسی مجبوری کا نتیجہ ہے یا کہ خود پیدا کردہ ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا وقت اسے کوئی مالی بدلہ نہیں دے رہا۔اس حالت میں اگر وہ کسی خاندانی یا قومی یا دینی کام کے لئے اپنی خدمات آنریری طور پر پیش کر دے تو ظاہر ہے کہ اقتصادی لحاظ سے وہ کوئی نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ جہاں ہے وہیں رہتا ہے مگر اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ نہ صرف بہت سے خطر ناک نقصانات سے بچ جاتا ہے بلکہ عظیم الشان فوائد بھی حاصل کرتا ہے اور اس خدائی منشاء کو بھی پورا کرنے والا بنتا ہے کہ جو آیت رَزَقْنَا هُمْ يُنْفِقُونَ ۷ ہیں بیان ہوا ہے۔یعنی یہ کہ سچے مومن وہ ہیں جو ہر اس چیز میں سے جو ہم نے ان کو دی ہے خواہ وہ مال ہے یا وقت ہے یا جسمانی طاقتیں ہیں۔یا آل و اولاد ہے خدا کے رستے میں خرچ کرتے ہیں۔بہر حال تربیتی نقطہ نگاہ سے بریکاری کا علاج مشکل نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے صرف اس احساس کی ضرورت ہے کہ جو وقت بریکاری کی حالت میں فضول طور پر ضائع ہو جاتا ہے اسے کسی مفید کام میں خرچ کرنا چاہیئے اگر یہ کام آمد کا بھی ذریعہ ہو تو فبھا۔لیکن اگر ایسا کام میسر نہ آئے تو پھر آنریری طور پر ہی کسی مفید کام کو اختیار کر لیا جائے تا کہ بہر حال وقت ضائع نہ ہو اور عادتیں بھی خراب ہونے سے محفوظ رہیں۔بیکاری کے اقسام جہاں تک میں نے غور کیا ہے بیکاری کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں : (۱) بیکاری بوجہ اس کے کہ کسی حقیقی معذوری مثلاً بیماری یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے کوئی شخص کام نہ کر سکتا ہو۔(۲) بیکاری بوجہ اس کے کہ حقیقتہ کوئی کام نہ ملتا ہو۔(۳) بریکاری بوجہ اس کے کہ کام تو مل سکتا ہو مگر انسان اسے اپنی شان کے مطابق نہ خیال کرے۔