مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 326 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 326

مضامین بشیر ۳۲۶ رکھتے ہیں۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے بے کاری کے موٹے موٹے نقصانات یہ ہیں : (۱) وقت جیسی قیمتی چیز جو غالباً دنیا کی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی ہے ضائع جاتی ہے۔جسے انسان بے شمار صورتوں میں ملک اور قوم اور دین کی خدمت میں خرچ کر سکتا ہے۔(۲) وقت کو بے کار گزارنے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور وقت کی قدرو قیمت کی حس ماری جاتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو جب کوئی کام ملتا ہے تو عادت کی وجہ سے وہ اس میں بھی ستی اور غفلت اختیار کرتا ہے اور اس کا فرض شناسی کا معیار بالکل گر جاتا ہے جو اخلاقی اور دینی لحاظ سے سخت مہلک ہے۔(۳) بے کا ر لوگ عموماً خراب عادتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ جب انسان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تو پھر وہ اپنے وقت کو گزارنے کے لئے اپنے واسطے ایسے مشاغل تلاش کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہوتے ہیں۔اور اس طرح وہ بُری عادتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مثلاً شراب نوشی۔افیون اور بھنگ چرس وغیرہ کا استعمال۔جوئے بازی۔شطرنج اور تاش اور اسی قسم کی دوسری بے فائدہ اور مخرب اخلاقی کھیلیں۔غیبت جو بے کاروں کی مجلس کا خاصہ ہے وغیرہ وغیرہ۔(۴) بے کاری سے بد صحبتی کی عادت پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب انسان بے کار ہوتا ہے تو وہ اپنا وقت گزارنے کے لیئے اپنے مفید مطلب مجلس ڈھونڈتا ہے اور بالعموم یہ مجلس اخلاقی اور دینی لحاظ سے بہت گندی ہوتی ہے۔(۵) بے کاری سے بے جا اعتراضات اور نکتہ چینی کی عادت پیدا ہوتی ہے۔جس میں انسان اس بات کو بالکل بھول جاتا ہے کہ میں جس شخص یا جماعت یا نظام پر اعتراض کر رہا ہوں اس پر اعتراض کرنے کا مجھے حق بھی ہے یا نہیں اور بزرگوں کے ادب اور نظام کے احترام کی روح مٹ جاتی ہے۔بیکاری کا انسداد کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ جملہ نقصانات بہت بھاری نقصانات ہیں مگر افسوس ہے کہ لوگ بالعموم ان کی طرف سے بالکل غافل رہتے ہیں اور اپنے عزیزوں کی بے کاری کو صرف اس ترازو سے تولتے ہیں کہ بیکا ررہنے سے روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔حالانکہ گو مالی نقصان بھی بے شک قابل توجہ ہے مگر اس مالی نقصان کو ان عظیم الشان نقصانات سے کچھ بھی نسبت نہیں جو اخلاقی اور دینی لحاظ سے بیکاری کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اگر ہمارے دوستوں میں ان نقصانات کا احساس پیدا ہو جائے تو پھر کم از کم جہاں تک