مضامین بشیر (جلد 1) — Page 328
مضامین بشیر ۳۲۸ (۴) بیکاری بوجہ اس کے کہ جائیداد وغیرہ کی کافی آمد موجود ہونے کے باعث انسان کام کی ضرورت نہ سمجھے۔مجبور کی بیکاری یہ وہ چار قسم کی بے کاری ہے جو عموماً دنیا میں پائی جاتی ہے اور میں اس جگہ ان جملہ اقسام بیکاری کے متعلق مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔سب سے پہلی صورت یہ ہے کہ کسی بیماری یا جسمانی معذوری کی وجہ سے انسان کام نہ کر سکتا ہو۔اس کے متعلق مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ اگر معذوری ایسی ہو کہ انسان واقعی کام نہ کر سکتا ہو۔مثلاً کوئی شخص کسی موذی مرض میں بالکل ہی صاحب فراش ہو جائے یا کوئی ایسا جسمانی نقص ہو کہ کام کی اہلیت ہی جاتی رہے۔تو پھر تو مجبوری ہے۔لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۳۸ مگر حق یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی معذوری کو محض ایک بہانہ بنا لیتے ہیں اور کام کی اہلیت رکھنے کے باوجود بیکاری میں وقت گزارتے ہیں۔مثلاً نا بینا ہو نا عام طور پر معذوری خیال کیا جاتا ہے اور ایک رنگ میں وہ معذوری ہے بھی۔لیکن غور کیا جائے تو ایک نابینا شخص کئی قسم کے کام کر سکتا ہے۔مثلاً اگر خدا اسے توفیق دے تو وہ قرآن شریف حفظ کر کے اور کچھ علم دینیات سیکھ کر امام الصلوۃ یا کسی مکتب وغیرہ کا معلم بن سکتا ہے اور مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی قائم کرسکتا ہے۔وغير ذالک۔اسی طرح اگر ایک شخص پاؤں سے معذور ہے تو وہ ایسے کام جن سے صرف دماغ کا واسطہ پڑتا ہے یا جو صرف ہاتھ کی مدد سے کئے جا سکتے ہیں کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔پس محض کسی بیماری یا جسمانی معذوری کا پایا جانا بیکاری کے جواز کی معقول وجہ نہیں ہے ، جب تک کہ ایسی معذوری انسان کو ہر جہت سے واقعی معذور نہ کر دے اور جو شخص محض کسی جسمانی معذوری کا بہانہ لے کر بیکار بیٹھتا ہے وہ بھی اخلاقی لحاظ سے مجرم ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے۔سوائے اس کے کہ وہ حقیقتہ بے دست و پا ہو۔کوئی کام نہ ملنے کی وجہ سے بیکاری بیکاری کی دوسری قسم یہ ہے کہ کسی شخص کو حقیقتہ کام نہ ملتا ہو۔یعنی وہ ہر قسم کے کام کے لئے تیار ہو مگر کوئی کام نہ ملے۔میں عقلاً اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ بعض حالات میں اس قسم کی صورت پیش آسکتی ہے لیکن یہ صورت بہت ہی شاذ طور پر صرف استثنائی حالات میں پیش آتی ہے۔ورنہ اگر انسان ہر قسم کے جائز کام کے لئے تیار ہو اور اسے کسی کام سے عار نہ ہو تو بالعموم کام مل جاتا ہے۔اگر نوکری