مضامین بشیر (جلد 1) — Page 325
بیکاری کا مرض ۳۲۵ بے کاری کے نقصانات اور اس کے انسداد کا تربیتی پہلو مضامین بشیر اس زمانہ میں بے کاری کی مرض بہت زیادہ پھیل رہی ہے اور کم و بیش ہر قوم اور ہر ملک میں پائی جاتی ہے۔میں نے اس کے متعلق مرض کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ سوائے بعض حقیقی معذوری کی صورتوں کے جب انسان واقعی کام نہ ملنے کی وجہ سے بریکاری کے لئے مجبور ہو جاتا ہے فی زمانہ اکثر صورتوں میں بے کاری حقیقہ ایک اخلاقی مرض ہے جو دوسری اخلاقی بیماریوں کی طرح اکثر انسانوں کو لگ کر خراب کر رہی ہے۔یعنی بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں کام تو مل سکتا ہے مگر یہ خیال کر کے کہ ہمیں جائیداد وغیرہ سے کافی آمد ہے اس لئے کام کی ضرورت نہیں یا یہ خیال کر کے کہ جو کام ملتا ہے وہ ہماری شان کے مطابق نہیں ، وہ کام نہیں کرتے اور بے کاری میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔ایسی بیکاری گو اقتصادی لحاظ سے بھی نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ جب سوسائٹی کا ایک طبقہ آمد پیدا کرنے کے بغیر رہے گا تو لازماً اس کے نتیجہ میں ملک و قوم کا مالی نقصان ہو گا مگر اس کا اصل نقصان تربیتی اور اخلاقی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔گویا بے کاری کا مسئلہ دو جہت سے قابل غور ہے۔اول اقتصادی لحاظ سے اور دوسرے تربیتی لحاظ سے اور میں اپنے اس مختصر مضمون میں موخر الذکر صورت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے بریکاری کے نقصانات سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تربیتی لحاظ سے بیکاری ایک نہائت ہی مہلک بیماری ہے۔جس کی وجہ سے انسان کے دین اور اخلاق کو خطرناک نقصان پہو نچتا ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس نقصان کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور صرف اس کے اقتصادی پہلو تک اپنی نظر کو محدود