مضامین بشیر (جلد 1) — Page 324
مضامین بشیر ۳۲۴ سکتا ہے۔مگر وہ محض اس وجہ سے حصہ نہیں لیتا کہ بزعم خود اس کی ماہوار آمد اس چندہ کی متحمل نہیں ہے تو یقیناً وہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ نیکی سے محروم کرتا ہے۔صحابہ میں کثرت کے ساتھ ایسے شخصوں کی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ ماہوار یا سالانہ آمد بہت کم رکھتے تھے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی چندہ کی تحریک ہوتی تھی تو وہ اپنی کوئی جائیداد یا اثاثہ فروخت کر کے چندہ دینے والوں کی صف اول میں آ کر کھڑے ہوتے تھے۔عقلاً بھی دیکھا جائے تو جب ہم اپنی دنیوی ضروریات کے لئے بسا اوقات اپنی جائیدادوں کے رہن رکھنے یا بیچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دینی ضروریات کے لئے ہم اپنی جائیدادوں کی طرف سے آنکھ بند کر کے صرف اپنی ماہوار یا سالانہ آمد کا خیال کرنے لگ جائیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ مرکز سلسلہ کے مخلص احباب اس مبارک تحریک میں جسے کامیاب بنانا ہمارے اخلاص اور محبت اور غیرت کا اولین فرض ہے، بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیں گے کہ وہ اخلاص اور قربانی میں ہر دوسری جماعت کے لئے ایک بہترین نمونہ ہیں۔میں انشاء اللہ کمیٹی برائے فراہمی چندہ کے ممبروں سے مشورہ کر کے عنقریب تفاصیل شائع کروں گا کہ یہ چندہ کس طرح اور کس ریٹ سے جمع کرنا ہے مگر اس وقت اس نوٹ کے ذریعہ میں احباب کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اس وعدہ کے مطابق جو انہوں نے خدا کے گھر میں بیٹھ کر کیا ہے۔بیش از بیش قربانی کے لئے تیار رہیں۔علاوہ اس کے میں اس وقت یہ بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل کے ساتھ میں انشاء اللہ اس بات کی کوشش کروں گا کہ جو چھپیں ہزار کی رقم جماعت قادیان نے اپنے ذمہ لی ہے۔اس میں سے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی طرف سے کم از کم دس ہزار روپے کی رقم پیش کرے۔اس رقم میں وہ وعدے مجرا ہوں گے جو اس سے قبل ہمارے خاندان کے افراد کی طرف سے ہو چکے ہیں اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے اور لڑکیاں اور ان ہر دو کی اولاد اور داماد اور بہوئیں شامل ہوں گی۔اس طرح قادیان کی باقی جماعت پر صرف پندرہ ہزار روپے کا بار رہ جائے گا جو جماعت کے اخلاص اور موقع کی اہمیت کے لحاظ سے یقیناً زیادہ نہیں۔وبالله التوفيق ونعم المولى ونعم النصير ( مطبوعه الفضل ۳۰ اپریل ۱۹۳۸ء)