مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 288 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 288

مضامین بشیر ۲۸۸ جاتا ہے۔یقینا اگر اندازہ کیا جائے تو دُنیا میں ہر سال اربوں روپے کا تمبا کو خرچ ہوتا ہوگا اور اغلب یہ ہے کہ اس میں سے کروڑوں روپیہ مسلمان خرچ کرتے ہیں۔اب دیکھو کہ ایک غریب قوم کے لئے یہ کس قدر بھاری نقصان ہے۔احمدیوں میں بھی اگر ان کی پنجاب کی آبادی ایک لاکھ مجھی جائے اور ان میں سے سارے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیں ہزار اشخاص تمباکو اور زردہ وغیرہ کے عادی قرار دئیے جائیں اور فی کس تمباکو کا سالانہ خرچ دو سے لے کر تین روپے تک سمجھا جائے (حالانکہ غالباً اصل خرچ اس سے زیادہ ہو گا ) تو صرف پنجاب کے احمدیوں میں تمباکو اور زردہ کی وجہ سے چالیس سے لے کر ساٹھ ہزار روپے تک سالانہ خرچ ہو رہا ہے۔جو ایک بہت بھاری قومی نقصان ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی افراد کے مالی نقصان کا بھی باعث ہے کیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ غریب غریب لوگ جنہیں پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔عادت کی وجہ سے تمباکو پرضرور خرچ کرتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں ان کی اقتصادی حالت روز بروز بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے مگر وہ اس نقصان کو محسوس نہیں کرتے۔(ب) چونکہ حقہ سگریٹ وغیرہ کی وجہ سے وقت بہت ضائع ہوتا ہے۔اس لئے پیشہ ور لوگ اس کی وجہ سے مالی نقصان اٹھاتے ہیں کیونکہ جو کام ایک تارک تمبا کو چار گھنٹہ میں کرتا ہے۔اسے ایک حقہ نوش عموماً ساڑھے چار گھنٹے میں کرتا ہے اور حساب کر کے دیکھا جائے۔تو یہ نقصان بھی ایک بھاری قومی نقصان ہے۔( ج ) تمباکو کی وجہ سے قوتِ ارادی کے کمزور ہو جانے کے نتیجہ میں نسبتی لحاظ سے انسان کے کمانے کی طاقت پر بھی اثر پڑتا ہے۔(و) حقہ اور سگریٹ کی وجہ سے آتشزدگی کے حادثات کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔نقصان سے بچنے کے طریق الغرض تمباکو کا استعمال ہر جہت سے ضرر رسان اور نقصان دہ ہے اور جس طرح حقہ اور سگریٹ وغیرہ کی صورت میں تمبا کو ایک ظاہری دھو آں پیدا کرتا ہے۔اسی طرح تمباکو اور زردہ کا استعمال افراد و اقوام کے دین اور اخلاق اور صحت اور اموال کو بھی گویا دھواں بنا کر اڑا تا جارہا ہے۔مگر کوئی اس دھوئیں کو دیکھتا نہیں۔لیکن اب وقت ہے کہ کم از کم احمدی جماعت کے احباب اس نقص کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں جو مندرجہ ذیل صورتوں میں ہو سکتی ہے۔