مضامین بشیر (جلد 1) — Page 287
۲۸۷ مضامین بشیر وقتها یعنی تو خدا کا صحیح ہے جس کا کوئی وقت ضائع نہیں جائے گا۔( د ) حقہ اور سگریٹ کے استعمال سے مونہہ میں ایک طرح کی بو پیدا ہوتی ہے اور گو بُو خود ایک جسمانی نقص ہے مگر اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے پتہ لگتا ہے کہ بوخدا کی رحمت کے فرشتوں کو بہت ہی نا پسند ہے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بو کی حالت میں مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تمباکو کی مذمت میں فرمایا ہے کہ حقہ اور سگریٹ نوش اعلیٰ الہام سے محروم رہتا ہے۔اسی طرح یہ نقص ایک اہم دینی اور اخلاقی نقص بن جاتا ہے۔(ھ) تمباکو کے استعمال سے طبی اصول کے ماتحت قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے جو اخلاقی اور دینی لحاظ سے سخت نقصان دہ ہے کیونکہ ایسا شخص نیکیوں کے اختیار کرنے اور بدیوں کا مقابلہ کرنے میں عموماً کم ہمتی دکھاتا ہے۔جسمانی لحاظ سے نقصانات دوم :۔جسمانی لحاظ سے تمباکو کے مندرجہ ذیل نقص سمجھے جا سکتے ہیں۔(الف) ایک تو وہی مندرجہ بالا نقص یعنی مونہہ میں بو پیدا ہونا جو ہر طبقہ اور ہر سوسائٹی میں نا پسندیدہ مجھی گئی ہے اور یقیناً صحت پر بھی بُرا اثر پیدا کرتی ہوگی۔(ب) تمباکو کے استعمال سے گو عارضی طور پر اس چیز کے عادی شخص کو کسی قدر ہوشیاری اور ہمت محسوس ہوتی ہے لیکن اس کا مستقل اور دائمی اثر یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ قوت ارادی کم ہوتی جاتی اور اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور یقیناً اگر دوسرے حالات برابر ہوں تو ایک تمباکو کی عادت رکھنے والی قوم کی صحت فی الجملہ اس قوم سے ادنی ہوگی جو اس عادت سے محفوظ ہے۔(ج) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ حقہ یا سگریٹ وغیرہ سے جو دھو آں انسان کے جسم کے اندر جاتا ہے وہ انسانی صحت کے لئے مضر ہوتا ہے۔(و) زردہ اور نسوار کے استعمال سے مسوڑوں کو بھی نقصان پہو نچتا ہے۔اقتصادی لحاظ سے نقصان سوم : - اقتصادی لحاظ سے تمباکو کے استعمال کے یہ نقصانات ہیں: (الف) ایک بالکل بے فائدہ اور بے خیر چیز میں مختلف اقوام کا بے شمار روپیہ ضائع چلا