مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 289 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 289

۲۸۹ مضامین بشیر (۱) جو لوگ حقہ یا سگریٹ یا زردہ یا نسوار وغیرہ کی عادت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ان میں سے جو جو لوگ اس مذموم عادت کو ترک کر سکتے ہوں (اور میں نہیں سمجھتا کہ حقیقتا کوئی ایک فرد واحد بھی ایسا ہو جو اسے ترک نہ کر سکتا ہو ) وہ اپنے دلوں میں خدا سے ایک پختہ عہد باندھ کر اس عادت کو یکدم یا آہستہ آہستہ جس طرح بھی توفیق ملے ترک کر دیں مگر بہتر ہے کہ یکدم ترک کریں کیونکہ آہستہ آہستہ ترک کرنے کے طریق میں ستی کا احتمال ہوتا ہے۔(۲) جو لوگ اپنے خیال میں کسی وجہ سے اس عادت کو ترک نہ کر سکتے ہوں۔مثلاً بوڑھے لوگ جن کو پُرانی عادت ہو چکی ہے یا دمہ وغیرہ کے بیمار جنہیں اس کے ترک کرنے سے بیماری کی تکلیف کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو وہ مندرجہ ذیل دو تجویز میں اختیار کریں :- (الف) جہاں تک ممکن ہو اس عادت کو کم کرنے کی کوشش کریں اور بہر حال اس کی کثرت سے پر ہیز کریں۔( ب ) جب تک اس عادت کے ترک کی توفیق نہیں ملتی کم از کم یہ عہد کریں کہ اپنے بچوں اور دیگر کم عمر عزیزوں کے سامنے تمباکو کے استعمال سے پر ہیز کریں گے تاکہ بچوں کو اس کی عادت نہ پڑے نیز ایسے بڑی عمر کے لوگوں کے سامنے بھی تمبا کو استعمال نہ کریں جو اس کے عادی نہ ہوں۔(۳) بچے اور نوجوان جو اس عادت میں مبتلا ہوں۔وہ اس عادت کو یکدم اور کلی طور پر ترک کر دیں کیونکہ انہیں خدا نے طاقت دی ہے اور اس طاقت کا بہترین شکرانہ یہی ہے کہ اس سے نیکی کے رستہ میں فائدہ اٹھایا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست جن کو ہر معاملہ میں دوسروں کے لئے نمونہ بننا چاہیئے اور جن کے لئے ضروری ہے کہ ہر جہت سے اپنی زندگیوں کو اعلیٰ بنا ئیں وہ اس سراسر نقصان رسان عادت کے استیصال کی طرف فوری توجہ دے کر عنداللہ ماجور ہوں گے۔اور اگر ایسے دوست جو اس تحریک کے نتیجہ میں تمبا کو ترک کریں مجھے بھی اپنے ارادہ سے اطلاع دیں تو میں انشاء اللہ ان کے اسماء حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کی تحریک کے لئے پیش کروں گا۔بالآخر ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کی تحریروں سے چند حوالہ جات درج کئے جاتے ہیں جن میں تمباکو کے استعمال کو نقصان دہ قرار دے کر اس سے منع کیا گیا ہے۔