مضامین بشیر (جلد 1) — Page 286
مضامین بشیر ۲۸۶ عادت میں مبتلا لوگوں کے دیکھنے سے اندازہ لگایا جا سکا ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ اس عادت کی وسعت محض اس خفیف قسم کے نشہ یا خمار کی بناء پر ہے جو تمبا کو کا استعمال پیدا کرتا ہے اور لوگ اپنے فارغ اوقات کاٹنے یا اپنے فکروں کو غرق کرنے یا یونہی ایک گونہ حالت سکر و خمار پیدا کرنے کی غرض سے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور چونکہ دوسری طرف کسی مذہب نے بھی تمباکو کے استعمال کو حرام قرار نہیں دیا۔اس لئے بڑی جرات اور دلیری سے ہر شخص اس عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ یہ مرض روز بروز سرعت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن غور کیا جائے تو تمبا کو کا استعمال اپنے اندر بہت سے دینی اور اخلاقی اور جسمانی اور اقتصادی نقصانات کا حامل ہے۔جن کی طرف سے کوئی عظمند اور ترقی کرنے والی قوم آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔مختصر طور پر تمباکو کے نقصانات مندرجہ ذیل صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔دینی و اخلاقی لحاظ سے نقصان اول: دینی اور اخلاقی لحاظ سے (الف) تمباکو کے استعمال میں ایک خفیف قسم کے خمار یا سکر کی آمیزش ہے۔اس لئے خواہ تھوڑے پیمانہ پر ہی سہی مگر بہر حال وہ اپنی اصل کے لحاظ سے ان نقصانات سے حصہ پاتا ہے جو شراب کے تعلق میں اسلام نے بیان کئے ہیں۔اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر تمبا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو میں یقین کرتا ہوں کہ آپ اس کے استعمال سے منع فرماتے۔(ب) تمباکو کے استعمال سے خواہ وہ حقہ اور سگریٹ کی صورت میں ہو یا زردہ اور نسوار کی صورت میں ، انسان کو بسا اوقات ایسی مجالس یا صحبت یا سوسائٹی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو دینی یا اخلاقی لحاظ سے اچھی نہیں ہوتی۔بے شک اس نقصان کا دروازہ سب صورتوں میں کھلا نہیں ہوتا لیکن بہت سی صورتوں میں اس کا احتمال ضرور ہوتا ہے اور چونکہ حکم کثرت کی بناء پر لگتا ہے اس لئے اس جہت سے بھی اس عادت سے پر ہیز لازم ہے۔( ج ) تمباکو کے استعمال سے اوقات کو بے کا رطور پر گزار نے اور وقت ضائع کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں اس نقص کو اکثر لوگ محسوس نہیں کرتے مگر قومی ترقی کے لئے یہ نقص ایک گونہ گھن کا حکم رکھتا ہے۔اور احمدیوں کو تو خاص طور پر اس نقص کی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام ہے کہ اَنْتَ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ