مضامین بشیر (جلد 1) — Page 281
۲۸۱ مضامین بشیر محمد و درکھنا چاہیئے ورنہ خدا پر بدظنی پیدا ہونے کا راستہ کھلتا ہے جوسرا سر مہلک ہے۔مجھے یہ خوشی ہے کہ تم نے اس باطل خیال کو پیدا ہوتے ہی دبا دیا اور اس کے اظہار سے باز رہے اور اس طرح گناہ میں گرنے کی بجائے ایک نیکی کمالی ورنہ اگر اظہار کر دیتے یا اس خیال کو اپنے دل میں راسخ ہونے دیتے تو یہ سراسر معصیت تھی۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اس واقعہ کو فرض کے طور پر مستثنیات کے دائرہ میں لے جا کر قانون شریعت کے ماتحت ہی لا کر دیکھنا ہو تو پھر بھی اس میں امکانی طور پر ایسی تو جیہات کے راستے کھلے ہیں جو ایک مومن کی تسلی کا باعث ہونے چاہئیں۔دوسری باتوں کے ذکر کو چھوڑتے ہوئے میں صرف مثال کے طور پر قرآن شریف کے اس بیان کردہ اصول کی طرف اشارہ کرنا کافی سمجھتا ہوں کہ بعض اوقات انجام کے لحاظ سے بچوں کی وفات ان کے والدین کے لئے بلکہ خود بچوں کے لئے رحمت کا موجب ہوتی ہے۔یعنی کسی نہ کسی رنگ میں اس کی تہہ میں خدائی رحمت کا جلوہ مخفی ہوتا ہے اور خدا کے رازوں کو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بعض مصالح ہو سکتے ہیں جو اس قسم کے واقعات کی تہہ میں کام کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فی الحال تمہارے لئے یہی دو اصول کافی ہیں جو میں نے اوپر بیان کر دیئے ہیں۔اب ایک مختصر سی تیسری بات عشق و وفاء کے میدان کی بھی سن لو اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ اس نے ہم پر ہزاروں احسان کئے ہوں اور یہ احسان بہت وزنی اور اہم ہوں اور پھر کبھی کسی موقع پر ہمیں اس محسن کی طرف سے کوئی تکلیف بھی پہنچ جائے تو قطع نظر اس کے کہ اس تکلیف کے نیچے بھی رحمت و شفقت مخفی ہو۔کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ اس شخص کے کثیر التعداد اور عظیم الشان احسانوں کو یا درکھتے ہوئے اس کی اس تکلیف اور سختی کو بھلا دیں اور تکلیف کو دیکھتے ہوئے بھی اس کے احسانوں کی وجہ سے اس کے شکر گزار رہیں۔قطع نظر دوسرے لا تعداد احسانوں کے اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو عظیم الشان احسان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل میں پیدا کر کے کیا ہے۔وہی اکیلا اس قدر بھاری ہے کہ میں اپنے ذوق کے مطابق تو سمجھتا ہوں کہ اگر بالفرض خدا ہم سب کو آپ کی نسل میں پیدا کرنے کے بعد عین جوانی کے عالم میں حرف غلط کی طرح مٹاتا چلا جائے اور کسی ایک کو بھی نہ چھوڑے تو کم از کم جہاں تک میرے قلبی احساسات کا تعلق ہے میں پھر بھی اس کے پیدا کر نے کے احسان کو اس کے مارنے کے فعل پر بھاری سمجھوں گا اور کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی میرے دل میں اس کی شکر گذاری کا جذ بہ کم نہیں ہو گا۔