مضامین بشیر (جلد 1) — Page 282
مضامین بشیر ۲۸۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے۔صادق آن باشد که ایام بلا گذارد گر قضا با محبت با وفا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنا کے یعنی صادق وہ ہوتا ہے جو مصیبت اور ابتلا کے دنوں کو بھی محبت اور وفا داری کے ساتھ گذارتا ہے اور اگر کبھی خدائی قضاء وقدر کے ماتحت کوئی عاشق مصائب و آلام میں گرفتار ہو جائے تو وہ اپنے وفور عشق میں ان مصائب و آلام کی آہنی زنجیروں کو بھی چومتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ زنجیریں بھی میرے محبوب کی طرف سے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے جس کے متعلق سب سے مقدم فرض خود ہمارا ہے کہ ہم اس پر عمل کریں کیونکہ ہم آپ کی صرف روحانی نسل سے ہی نہیں ہیں بلکہ جسمانی نسل سے بھی ہیں اور دوسروں کی نسبت ہماری ذمہ داری زیادہ ہے۔میں نے یہ باتیں محض اصولی طور پر تمہاری دینی تربیت کے لحاظ سے لکھی ہیں۔ورنہ میں یہ خیال نہیں کرتا کہ تم نے اپنے خدا پر کوئی بدگمانی کی ہے۔میں جانتا ہوں کہ تمہارا یہ ایک محض اڑتا ہوا خیال تھا جو تم نے دل میں فوراً ہی دبا کر مٹا دیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ تم نے اسی قسم کے خیالات کی بنا پر ہی اسے دبایا ہو گا۔جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں کیونکہ تم بھی آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے ہوا اور گو ہماری نسبت تمہارا فاصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بقد ر ا یک قدم زیادہ ہے لیکن بہر حال تم اس خونی رشتہ کے مبارک اثر سے محروم نہیں ہو سکتے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تم کو پہنچا ہے اور عزیز سعید مرحوم کی وفات کے متعلق بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ قانون نیچر کا ایک دردناک طبعی نتیجہ ہے جو خواہ ہمارے لئے کتنا ہی تلخ اور بھاری ہے مگر بہر حال وہ ہمارے محسن و محبوب خدا کی طرف سے ہے اور ہم با وجود انتہائی غم کے دلی صبر ورضا کے ساتھ اپنے خدا کی ان بھاری زنجیروں کو چومتے ہیں۔جو اس کی قضاء وقد ر نے ہم پر ڈالی ہیں اور اس کے امتحان کو قبول کرتے ہیں۔خدا بھی ہمارے صبر کو قبول فرمائے اور اس پر استقامت دے۔آمین والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد اس خط میں میں نے تین اصول بیان کئے ہیں جو دوستوں کی آسانی کے لئے ذیل میں معین