مضامین بشیر (جلد 1) — Page 280
مضامین بشیر ۲۸۰ کچھ ذکر کروں : - سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جسے کبھی بھولنا نہیں چاہیئے کہ خدا نے دنیا میں دوستم کے قانون جاری کئے ہیں۔ایک قانون نیچر ہے اور دوسرا قانون شریعت ہے۔یہ دونوں قانون اپنے علیحدہ علیحدہ دائروں میں چلتے ہیں اور ایک دوسرے کے دائرہ میں دخل انداز نہیں ہوتے اور دنیا کی دینی اور دنیوی ترقی کے لئے ان کا علیحدہ علیحدہ رہنا ہی مفید اور ضروری ہے۔اس تقسیم کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ موت وحیات کا قانون نیچر کے قانون کا حصہ ہے یعنی زندگی اور موت کے امور قانون نیچر کے ماتحت رونما ہوتے ہیں اور قانونِ شریعت سے انہیں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔(سوائے مستثنیات کے جن کے ذکر کی اس جگہ ضرورت نہیں ) پس موت وحیات کے واقعات کو قانون شریعت کے ماتحت لا کر ان کے متعلق رائے لگانا ہمیشہ غلط نتیجہ پیدا کرے گا۔مثلاً اگر ایک اچھا اور نیک آدمی کسی وجہ سے ہیضہ کے جراثیم کی زد کے نیچے آجاتا ہے اور ان جراثیم کے مقابلہ کی بھی اس کے جسم میں طاقت نہیں ہے تو وہ لازماً ہیضہ کا شکار ہو جائے گا اور اس کی نیکی اسے اس حملہ سے محفوظ نہیں رکھ سکے گی مگر اس کے مقابل پر اگر ایک خراب آدمی ہے لیکن وہ ہیضہ کے جراثیم کی زد کے نیچے نہیں آیا یا زد کے نیچے تو آیا مگر اس کی جسمانی حالت ان جراثیم کے مقابلہ کے لئے کافی مضبوط تھی تو با وجود دینی لحاظ سے گندہ اور خراب ہونے کے وہ اس آفت سے محفوظ رہے گا۔خدا کا یہ قانون دنیا کی ہر چیز میں کام کر رہا ہے۔جاندار اور غیر جاندار، انسان اور حیوان ، امیر اور غریب ، نیک اور بد سب اس قانون کے جوئے کے نیچے ہیں۔پس اگر سعید مرحوم قانون نیچر کی زد میں آگیا۔یعنی ایک طرف اس نے اپنی والدہ مرحومہ سے سل کی بیماری کا میلان ورثہ میں پایا اور دوسری طرف اس کی اپنی جسمانی بناوٹ بھی کمزور تھی اور تیسری طرف اس نے ہوا میں اڑتے ہوئے یا کسی اور طرح سل کے جراثیم کو اپنے جسم کے اندر لے لیا اور چوتھی طرف اس نے اپنے جذ بہ صبر ورضا کے ما تحت شروع میں اپنے اس خطرہ کا کسی سے اظہار نہیں کیا۔حتی کہ بیماری اندر ہی اندر ترقی کر کے خطر ناک صورت اختیا ر کر گئی اور پانچویں طرف اسے یہ حالات اس ملک میں پیش آئے جہاں کی آب و ہوا سخت مرطوب اور خنک ہے تو ان حالات کا لازمی اور قدرتی نتیجہ یہی ہوسکتا تھا جو ہوا۔یعنی قانون نیچر کے حملہ نے ہمارے عزیز کی زندگی کے لہلہاتے پودہ کو عین جوانی کے عالم میں کاٹ کر گرا دیا۔یقیناً یہ سارا منظر اپنے اندر ایک انتہائی تلخی رکھتا ہے مگر اس تلخ نتیجہ کو عام قانون نیچر کے دائرہ سے نکال کر اوہام باطلہ کا شکار ہونے لگنا سخت غلطی ہے ، جس پر استغفار کرنا چاہیئے۔یہ حادثہ خواہ کتنا ہی تلخ ہے مگر بہر حال وہ قانون نیچر کا ایک حصہ ہے اور اسے اس کے دائرہ کے اندر ہی