مضامین بشیر (جلد 1) — Page 18
مضامین بشیر ۱۸ طور پر تو عبداللہ نام نہ تھا مگر عبداللہ کے مفہوم کے لحاظ سے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر کوئی عبد اللہ نہیں گزرا۔ایسے نام کو اسم صفت کہتے ہیں۔قرآن شریف میں بھی اسم کے معنے صفت کے آئے ہیں۔ملا حظہ ہو لَهُ إِلَّا سُمَاءُ الْحُسْنَى كل یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پاک ہیں غرض لفظ اسم دونوں معنوں میں آتا ہے۔اسم ذات اور اسم صفت۔کیونکہ یہ دونوں ایک حد تک تعیین اور تخصیص کرنے والے ہوتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں اسمہ احمد والی پیشگوئی کس شخص پر چسپاں ہوتی ہے۔عیسی علیہ السلام کے بعد دو شخص رسالت کے مدعی ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔یا تو یہ پیشگوئی ابھی تک پوری ہی نہیں ہوئی۔اور اگر ہوئی ہے تو پھر ان دونوں میں سے کسی پر ضرور چسپاں ہوگی۔پہلے ہم لفظ اسم کے مفہوم اول یعنی اسم ذات کے لحاظ سے پیشگوئی کی تعیین کرنے ہیں۔آنحضرت کا اسم ذات محمد تھا۔یہی نام آپ کا آپ کے بزرگوں نے رکھا اور اسی نام سے آپ مشہور تھے۔دوسری طرف مسیح موعود کا نام تھا غلام احمد یہی نام ان کا ان کے والدین نے رکھا۔اور اسی نام سے وہ مشہور تھے۔یہ سرسری نظر جو ہم نے ان دو مدعیان رسالت پر ڈالی تو ہم کو معلوم ہوا کہ یہ پیشگوئی کم از کم اس ذات کے لحاظ سے ان ہر دو میں سے کسی پر بھی چسپاں نہیں ہوتی تو پھر یہ ماننا پڑا کہ یا تو یہ پیشگوئی ابھی تک پوری نہیں ہوئی یا ہماری ظاہری نظر نے دھوکا کھایا۔پہلی صورت چونکہ مسلمہ طور پر غلط ہے۔اس لئے دوسری صورت کو صحیح سمجھ کر پھر نظر ڈالتے ہیں تا کہ اگر سرسری نظر نے لفظ احمد کو ان دو بزرگوں پر اسم ذات کے طور پر نہیں چسپاں کیا تو شاید پیشگوئیوں میں جو اخفاء کا پردہ ہوتا ہے۔اس کو خیال رکھتے ہوئے ہم ذرا گہری نظر سے لفظ احمد کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مسیح موعود میں سے کسی کے ساتھ اسم ذات کے طور پر دیکھ سکیں۔تاریخ اور احادیث صحیحہ ( وضعیات الگ رکھ کر ) شاہد ہیں کہ محمد رسول اللہ کا رسالت سے پہلے کبھی بھی احمد کے نام سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکتا۔دعویٰ سے پہلے کی شرط اس واسطے ہے کہ دعوی کے بعد والا نام اول تو اسم ذات نہیں کہلا سکتا۔دوسرے خصم پر حجت نہیں ہے۔اگر دعوی سے بعد کا اپنے مونھ سے آپ بولا ہوا نام بھی اسم ذات ہوسکتا ہے تو پھر تو امان اٹھ جاوے۔مثلاً پیشگوئی ہو کہ عبدالرحمن نام ایک شخص مامور ہوکر آئے گا تو ایک شخص مسمی جمال دین اُٹھے اور کہے کہ میرا نام ہی عبدالرحمن ہے۔تو وہ صحیح نہ سمجھا جائے گا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں تو یہ جھگڑا بھی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اسم ذات کے طور پر دعوئی کے بعد بھی کبھی اپنا نام احمد نہیں بتایا۔اگر کوئی دعویٰ کرے تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔