مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 17

۱۷ ۱۹۱۷ء مضامین بشیر اسمُهُ أَحْمَدُ قرآن شریف میں حضرت مسیح ناصری کی ایک پیشگوئی درج ہے، جو ان کے بعد کسی ایسے رسول کی آمد کی خبر دیتی ہے جس کا اسم احمد ہو گا۔اصل الفاظ پیشگوئی کے جو قرآن کریم میں درج ہیں یہ ہیں :- وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِبَنِي إِسْرَاءِ يُلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَّأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ ! یعنی فرما یا عیسی بن مریم نے کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے ایک رسول ہوں۔مصدق ہوں اس کا جو میرے سامنے ہے۔یعنی تو رات اور 66 بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا۔اور جس کا اسم احمد ہو گا۔“ پیشتر اس کے کہ اور قرائن کے ساتھ اس موعود رسول کی تعیین کی جاوے ہم پہلے الفاظ اسمہ احمد کو ہی لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک ہم کو تعین کے کام میں مدد دیتے ہیں۔پہلا لفظ اسم ہے یہ مشتق ہے۔وسم سے جس کے معنی نشان لگانے کے ہیں تو گویا اس لحاظ سے اسم کے معنی ہوئے نشان اور چونکہ نشان کی غرض تخصیص و تعیین ہوتی ہے تو اس لئے اسم کے پورے معنی ہوئے وہ نشان وغیرہ جس سے کسی شے کی تعیین و تخصیص ہو جائے۔اب اسم کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ایک یہ کہ اسم سے مراد اسم ذات لیا جائے۔یعنی وہ نام جس سے کوئی شخص عام طور پر معروف ہو۔خواہ حقیقت کے لحاظ سے اس نام کا مفہوم نام بردہ میں پایا جاوے یا نہ پایا جاوے۔مثلاً بیسیوں ایسے دہریہ مل جائیں گے جن کا نام عبداللہ یا عبدالرحمن وغیرہ ہوگا۔حالانکہ اگر حقیقت کے لحاظ سے دیکھیں تو وہ عبداللہ اور عبدالرحمن کے ناموں سے کوسوں دور ہوں گے۔ایسے اسم کو جس میں حقیقت کا ہونا نہ ہونا ضروری نہ ہو۔اسم ذات کہتے ہیں۔دوسری اسم کی یہ صورت ہے کہ مثلا کسی شخص کا کوئی نام بطور اسم ذات کے تو نہ ہومگر اس نام کا مفہوم نمایاں طور پر اس شخص میں پایا جاوے۔مثلاً محمد رسول اللہ کا اسم ذات کے