مضامین بشیر (جلد 1) — Page 236
مضامین بشیر ۲۳۶ میاں فخر الدین صاحب ملتانی کی موت پر میرے قلبی تاثرات میاں فخر الدین صاحب کی وفات کی خبر کل شام کو جب میں مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر گھر گیا تو مجھے کسی شخص نے یہ اطلاع دی کہ میاں فخر الدین ملتانی فوت ہو گئے ہیں۔اس خبر سے میری طبیعت کو ایک سخت دھکا لگا اور میں ایک گہری فکر میں پڑ گیا اور میاں فخر الدین صاحب کے انجام کے متعلق سوچنے لگ گیا کہ یہ کیا ہوا اور کیونکر ہوا۔سب سے پہلے میرا خیال آج سے اکتیس سال قبل کے زمانہ کی طرف گیا۔جب میاں فخر الدین پہلی دفعہ قادیان آئے تھے۔ابتدائی حالات مجھے یاد ہے کہ جس دن میں اپنی شادی کے سفر سے واپسی پر پشاور سے بٹالہ پہونچا تھا۔اسی دن اور اسی گاڑی سے میاں فخر الدین بھی بٹالہ میں اترے تھے اور پھر وہ ہمارے ساتھ ہی یا شائد کچھ آگے پیچھے قادیان پہونچے تھے۔اس وقت وہ بالکل نوجوان تھے اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے اور غالباً والد کو ناراض کر کے یا شائد ان کی لاعلمی میں قادیان آئے تھے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ اخلاص اور عقیدت کے ساتھ آئے تھے۔اور پھر انہوں نے علی الترتیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے زمانہ میں اپنی عمر کے اکتیس سال گزارے۔اور اللہ تعالیٰ کے بہت سے فضلوں سے حصہ پایا۔یعنی انہیں احمدیت میں حصول تعلیم کی بھی توفیق ملی۔نئے رشتہ دار بھی مل گئے۔روزگار کا بھی راستہ کھل گیا اورسب سے بڑھ کر یہ کہ سلسلہ کی خدمت کا بھی موقع مل گیا اور چونکہ ملنسار تھے اور دوستوں کی خدمت کا بھی جذبہ رکھتے تھے ، اس لئے آہستہ آہستہ جماعت کے اچھے طبقہ میں ان کے تعلقات ہو گئے اور انہوں نے احمدیت میں ایک با عزت زندگی گزاری۔با ہمی تعلقات خاکسار راقم الحروف کے ساتھ بھی ان کا قریباً شروع سے ہی تعلق تھا اور وہ میرے ساتھ محبت