مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 235 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 235

۲۳۵ مضامین بشیر ہاں جرنیل اپنے وسیع دائرہ میں بے شک بے شمار انعامات کا وارث ہوگا۔بعینہ وہی صورت اس مجلس میں تھی آپ کے بچے ہوئے دودھ کا کسی کو ملنا بے شک ایک انعام تھا کیونکہ وہ آپ کا تبرک تھا لیکن یہ انعام صرف مقامی حیثیت رکھتا تھا۔پس یہ انعام اس کا حق ہو سکتا تھا جو اس مجلس میں مقامی فضیلت رکھتا ہو۔اور ظاہر ہے مقامی فضیلت جس کا نام میں نے حالاتی فضیلت رکھا ہے اس وقت اس اعرابی کو تمام اہل مجلس پر حاصل تھی۔آپ نے اس کو اس انعام کا وارث بنایا۔ہاں اگر کوئی وسیع دائرہ کا انعام ہوتا تو آپ بے شک ذاتی فضیلت کے نام پر تقسیم کرتے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فعل سے صحابہ کو یہ سبق سکھا دیا کہ کسی کی عام ذاتی فضیلت اور اہلیت کی وجہ سے کسی دوسرے کی جزوی یا حالاتی فضیلت کو نظر انداز نہ کر دینا چاہیئے۔بلکہ اس مؤخر الذکر شخص کے حقوق کی بھی پوری نگہداشت کرنی ضروری ہے۔خواہ بظاہر اس وقت کسی بڑے شخص کی کیسی شان ہی نظر آتی ہو۔چوتھے اس حدیث سے یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ ظاہری صورت کا بھی بڑا لحاظ رکھا جاتا ہے۔کیونکہ آپ نے اس اعرابی کے صرف ظاہری مقام کا جو ایک محض اتفاقی امر تھا اور صرف ظاہری صورت میں واقعہ ہو گیا تھا اور حقیقت کے ساتھ اسے کوئی تعلق نہ تھا بہت بڑا لحاظ کیا اور اسے قابلِ۔انعام گردانا۔پس سالک کے لئے اس میں بھی ایک نکتہ بتایا ہے کہ اگر کبھی وہ کسی مقام قرب کی رُوح میں داخل نہیں ہوسکتا تو اس کے ظاہری حالات کو ہی اپنے اوپر وار د کر لے۔کیونکہ ظاہری حالت بھی فیض الہی کو کھینچتی اور بندہ کو انعامات کا وارث بناتی ہے۔یہ وہ چند میں ند حکمتیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعل میں جو حدیث متذکرۃ الصدر میں بیان کیا گیا ہے پائی جاتی ہیں۔واللہ اعلم بعض اور حکمتیں بھی ہیں مگر ان کے لئے زیادہ گہری نظر درکار ہے۔درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام بھی کلام الہی کی طرح ( گو محدود پیمانہ پر ) ہدایت کا بحر بیکراں ہے اور آپ کا ہر قول و فعل اور حرکت وسکون اپنے اندر بہت بہت حکمتیں رکھتا ہے۔ان اسرار سے واقف ہونا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔کیونکہ اس سے طبیعت اطمینان اور سکون حاصل کرتی ہے۔نیز بندہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لاتعداد راستوں پر آگاہ ہوکر اپنے اعمالِ صالح کا دائرہ بہت وسیع کر سکتا ہے۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين مطبوعہ الفضل ۱۱ جون ۱۹۳۷ء )