مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 234 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 234

مضامین بشیر ۲۳۴ متعلق خاص برکت کے الفاظ فرمائے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے وجود کے اندر سے انوار باطنی نکل نکل کر اس جہت کو مبارک کر رہے ہیں۔ورنہ اگر یہ نہیں تو اس کی برکت کیسی۔اس حدیث سے نورانی وجودوں کے محض قرب سے دوسری اشیاء کا (بشرطیکہ وہ قبولیت کا مادہ رکھتی ہوں ) متاثر ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ وہ عظیم الشان نکتہ ہے جو ہر صادق کی کامیابی کی تہہ میں کام کرتا ہے۔اور یہی سالک کے سلوک کی کامیابی کی کلید اعظم ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ آپ کے اس فعل میں سب سے پہلے یہ سبق تھا کہ پاک وجودوں سے ہر وقت خاموش طور پر انوار روحانی کا صدور ہوتا رہتا ہے۔وھو المراد دوسرا سبق جو اس حدیث میں ہے۔یہ ہے کہ گوروحانی انوار کا صدور ہر جانب پر اثر ڈالتا ہے مگر دائیں جانب کو انوار کی کرنیں زیادہ زور اور زیادہ صفائی کے ساتھ رخ کرتی ہیں۔یہ ایک خاص نکتہ ہے جس کا ادراک صرف ایک عارف پر کھولا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے تجربہ سے اس کے صدق کا مشاہدہ کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے موقع پر بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنا نچہ مسجد میں جماعت کے وقت جہاں قرب امام اور بعض اور وجوہ سے باقی صفوں پر صف اول کو ترجیح دی گئی ہے وہاں آپ کے اقوال سے یہ بھی ثابت ہے کہ صف اول میں سے شرط ایمن یعنی دائیں جانب کی نصف صف کو بائیں جانب کی نصف صف پر فضیلت حاصل ہے مگر یہ موقع اس اصل کی اہمیت ظاہر کرنے کے واسطے ایک خاص موقع تھا کیونکہ ایک طرف صدیق اکبر تھا اور دوسری طرف ایک اعرابی۔پس ایسے حالات میں بھی آپ کا اعرابی والی جانب کو اس کے شق ایمن ہونے کے ابو بکر صدیق والی جانب پر ترجیح دینا شق ایمن کی برکات کی ہیت کو خاص طور پر ظاہر کرنے والا ہے۔تیسرے اس فعل سے آپ اپنی امت کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ مقامی اور وقتی انعامات ان لوگوں کا حق ہوتے ہیں جو مقامی اور وقتی خصوصیت رکھتے ہیں نہ کہ ان کا جو بحیثیت مجموعی مستقل طور پر کلی فضیلت رکھتے ہوں کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو مقامی اور وقتی فضیلت رکھنے والے لوگ انعامات سے بالکل ہی محروم ہو جائیں حالانکہ خدا کی رحیمیت اور رحمانیت کا تقاضا ہے کہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر سب لوگ انعامات حاصل کریں اور اپنے اپنے حقوق میں مثلاً ایک جرنیل ہے جو تمام فوج میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور اس نے بڑے بڑے کا رہائے نمایاں کئے ہیں اور دوسرا ایک معمولی سپاہی ہے جس نے اپنے محدود دائرہ میں کوئی عام فضیلت حاصل کی ہے۔تو اب اس محدود دائرہ کے اندر انعامات کی تقسیم ہوگی تو سپاہی کو بھی انعام ملے گا اور یہ ظلم ہو گا کہ وہ انعام بھی جرنیل کو دے دیا جائے۔