مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 233 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 233

۲۳۳ مضامین بشیر فراست عطا کرتا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے جب روحانی ترقیات کے تمام ذریعے شریعت نے کھول کر بتا دیئے ہیں تو پھر کسی کی فضیلت ذاتی کا علم کس طرح مخفی ہو سکتا ہے کیونکہ جو شخص ان ذرائع کو جس حد تک استعمال کرتا نظر آئے گا وہ اس حد تک فضیلت رکھنے والا سمجھا جائے گا مگر یہ خیال باطل ہے کیونکہ اول تو گوروحانی ترقیات کے ذرائع سب بیان شدہ ہیں مگر سب ظاہر و نمایاں نہیں ہیں بلکہ بہت سے مخفی ہیں جن کا علم خاص مجاہدہ سے کھلتا ہے اور عامۃ الناس تو الگ رہے بعض اوقات ظاہری علوم کے حامل بھی ان سے آگاہ نہیں ہوتے۔دوسرے کسی شخص کا ان ذرائع کو استعمال کرتا ہوا نظر آنا اس بات کی دلیل بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ شخص صاحب فضیلت روحانیہ ہے کیونکہ قلب کی نیات کو جن پر سب شے کا دار و مدار ہے کوئی نہیں جانتا۔اور پھر اگر نیات درست بھی ہوں تو دوسرے مخفی امراض کو کون سمجھ سکتا ہے۔بلکہ نیات اور مخفی امراض تو ایسی مخفی اشیاء ہیں کہ بعض اوقات خود سالک بھی ان کے متعلق دھوکا کھا جاتا ہے۔لہذا کسی کی ذاتی فضیلت کا علم ایک نہائت ہی مشکل امر ہے اور کم از کم ظاہری علوم سے تو یہ حاصل نہیں ہو سکتا لیکن اس کے مقابلہ میں کسی کی حالاتی فضیلت کا علم ایک بالکل آسان امر ہے۔جسے عام واقفیت رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کیونکہ اس کو حقیقت سے واسطہ نہیں بلکہ صرف ظاہری حالت سے تعلق ہے۔ان دو باتوں کے بیان کرنے کے بعد خاکسار عرض کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا جو بچا ہوا دودھ اس اعرابی کو دیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ دیا تو آپ نے اپنے اس فعل سے امت کو بعض عظیم الشان سبق دیئے۔اوّل آپ نے اپنے اس فعل سے اپنی امت کو اس بات کا علم دیا اور احساس کرایا کہ جس طرح جسمانی طور پر منور اشیاء مثلاً سورج، چاند، چراغ وغیرہ ہر وقت اپنی روشنی کی کرنیں باہر پھینکتے رہتے ہیں۔اسی طرح روحانی طور پر منور اشیاء سے بھی ہر وقت انوار باطنی کا ظہور ہوتا رہتا ہے اور کوئی وقت ایسا نہیں ہوتا کہ ضیاء روحانی کی کرنیں ان سے صادر ہونی رک جائیں کیونکہ اگر یہ نہ تسلیم کیا جائے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا الايمن فا لايمن فرمانا یعنی دایاں دایاں ہی ہے بے حکمت ٹھہرتا ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس بیٹھنے میں فی ذاتہ کوئی اثر نہیں تو پھر نہ دائیں کا سوال رہا اور نہ بائیں گا۔نہ پاس کا نہ بند کا۔نہ آگے کا نہ پیچھے کا۔خوب غور کر لو یہ سوالات تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جب یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ کے اندر سے ہر وقت خاموش طور پر انوار روحانی کا صدور ہوتا رہتا تھا۔دائیں بائیں کے مقابلہ کے سوال کو فی الحال الگ رکھو۔صرف اس بات پر نظر کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہات میں سے کسی ایک جہت کے