مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 232

مضامین بشیر ۲۳۲ اسرار حدیث عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيْبَ بَمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيَّ وَعَنْ يَّسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ : الْأَيْمَنُ فَا لَايْمَنُ A انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ ( جس میں پانی ملا ہوا تھا ) لایا گیا۔اس وقت آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی یعنی کوئی عام دیہاتی آدمی تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر تھے۔آپ نے دودھ پیا اور اپنا بچا ہوا دودھ اس اعرابی کو دے دیا اور فرمایا دائیں جانب دائیں جانب ہی ہے۔دوسری روائت میں آتا ہے کہ اس مجلس میں حضرت عمرؓ بھی تھے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ اپنا بچا ہوا دودھ ابو بکر کو دیجئے اس پر آپ نے فرمایا دایاں دایاں ہی ہے۔66 جاننا چاہیئے کہ افراد کی فضیلت دوستم پر ہے۔ایک ذاتی فضیلت اور دوسرے حالاتی فضیلت۔ذاتی فضیلت تو اس طرح پر ہوتی ہے کہ مثلاً ایک شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مقرب ہے اور دوسرا اس سے کم تو اس صورت میں مقدم الذکر شخص دوسرے پر فضیلت رکھے گا اور یہ فضیلت اس کی ذاتی فضیلت کہلائے گی حالاتی فضیلت کی یہ مثال ہوسکتی ہے کہ مثلاً ایک شخص ایک وقت کسی نہائت مبارک اور پاک جگہ میں ہے اور دوسرا جو ذاتی فضیلت کے لحاظ سے اس سے بہت بڑھا ہوا ہے۔اس وقت کسی وجہ سے اس جگہ کی نسبت کسی کم مبارک جگہ میں ہے۔مثلا ایک مسجد میں ہے اور دوسرا بازار میں یا ایک مسجد کی پہلی صف میں ہے اور دوسرا پیچھے تو اس مقدم الذکر شخص کو دوسرے شخص پر حالاتی فضیلت حاصل ہوگی اور ظاہر ہے کہ یہ ایک محض جزوی اور وقتی فضیلت ہو گی مگر ہو گی ضرور۔دوسرے یہ جاننا چاہیئے کہ روحانی امور میں کسی شخص کی فضیلت ذاتی کے متعلق یقینی علم حاصل کرنا ایک نہائت ہی مشکل امر ہے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ علم صرف خدا کو ہی حاصل ہوتا ہے یا جسے خدا چاہے یہ