مضامین بشیر (جلد 1) — Page 206
مضامین بشیر ۲۰۶ الغرض وہ پانچویں علامت بھی جو اس زلزلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی تھی یعنی یہ کہ یہ زلزلہ مرزا بشیر احمد کی زندگی میں آئے گا اور وہی اس کی طرف ابتدا توجہ دلانے والا ہوگا۔حرف بحرف پوری ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک ولا حول ولاقوة الا بالله تمام موعودہ علامات پوری ہوگئیں خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے علم پاکر ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ ء والے زلزلہ کے متعلق پانچ زبر دست علامات بیان فرمائی تھیں اور آج ۲۷ - ۲۸ سال کے لمبے زمانے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سب علامات من وعن پوری ہوئیں۔ایک تباہ کن زلزلہ آیا اور وعدہ کے مطابق اپنے ساتھ پانی کے سیلاب کو لایا۔زلزلہ آیا اور جیسا کہ وعدہ تھا عین بہار کے موسم میں آیا اور کنگ نادرشاہ کے قتل کے واقعہ کے ساتھ یوں ملا ہوا آیا کہ گویا قدرت کے ہاتھوں نے ان دو حادثوں کو ازل سے جوڑ رکھا تھا۔زلزلہ آیا اور جیسا کہ وعدہ تھا عین بہار کے موسم میں آیا۔گویا بہار کے موسم کو بہار کے صوبے سے کوئی مخفی نسبت تھی۔زلزلہ آیا اور خدائی اشارہ کے مطابق ملک کے شمال مشرق میں آیا۔یعنی جس طرح خدائی فرشتوں نے ۱۹۰۵ء میں ہندوستان کے شمال مغرب میں ڈیرے ڈالے تھے۔۱۹۳۴ء میں یہ فرشتوں کی چھاؤنی ملک کے شمال مشرق میں آگئی۔زلزلہ آیا اور وعدہ کے مطابق خاکسار راقم الحروف کی زندگی میں آیا اور خدا نے ایسا تصرف فرمایا کہ سب سے پہلے اس بات کی طرف میرا ہی ذہن منتقل ہوا کہ یہ وہی موعود زلزلہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ میرے نام کی نسبت سے اس میں یہ بھی اشارہ ہو کہ یہ زلزلہ خدائی سلسلہ کے لئے بشارت لے کر آتا ہے۔پس میں پھر کہوں گا۔الحمد لله على ذالک ولاحول قوة الا بالله۔مصیبت زدگان سے ہمدردی ہم دنیا کی مصیبت پر خوش نہیں ہیں اور خدا جانتا ہے کہ اس زلزلہ کی تباہ کاری پر ہمارے دلوں میں ہمدردی اور مواخات کے کیا کیا جذبات اٹھتے ہیں۔ہم ہر اس شخص سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں جسے اس زلزلہ میں کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے۔ہم ہر مالک مکان کے ساتھ اس کے مکان گرنے پر۔ہر باپ کے ساتھ اس کے بیٹے کے مرنے پر۔ہر خاوند کے ساتھ اس کی بیوی فوت ہونے پر۔ہر بھائی کے ساتھ اس کے بھائی کے جدا ہونے پر۔ہر بیٹے کے ساتھ اس کے باپ کے رخصت ہونے پر۔ہر بیوی کے ساتھ اس کے خاوند کے گزر جانے پر۔ہر دوست کے ساتھ اس کے دوست کے بچھڑنے پر سچی اور مخلصانہ ہمدردی رکھتے ہیں اور دوسروں سے بڑھ کر اپنی ہمدردی کا عملی ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں اور اسے اپنا فرض سمجھتے