مضامین بشیر (جلد 1) — Page 207
۲۰۷ مضامین بشیر ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر ہمارا یہ فرض ہے کہ جب خدائے ذوالجلال کا کوئی نشان پورا ہوتا ہوا دیکھیں تو اسے دنیا کے سامنے پیش کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں اس طرح پوری ہوا کرتی ہیں تا کہ وہ خدا کو پہچانیں اور اس کے بھیجے ہوئے مامور مرسل کی شناخت کریں اور خدا سے جنگ کرنے کی بجائے اس کی رحمت کے پروں کے نیچے آجائیں۔خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کو دنیا کے لیئے ایک رحمت کا مجسمہ بنا کر بھیجا۔مگر افسوس دنیا نے آپ کو قبول نہ کیا اور وقت کی ضرورت کو نہ پہچانا اور خدا کے مامور ومرسل پر اپنے تیر و تفنگ نکالے اور اسے اپنی جنسی کا نشانہ بنایا۔تب خدا اپنے وعدہ کے مطابق اپنی فوجوں کو لے کر آسمان سے اترا اور اس نے پھر کہا:- میں اپنی چہکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔۸۶ دعوت الی الحق سواے عزیز و! اب خدا کے دونوں ہاتھ تمہارے سامنے ہیں۔ایک طرف اس کی رحمت کا ہاتھ ہے اور دوسری طرف اس کے غضب کا ہاتھ۔اور تمھیں اختیار ہے کہ جسے چاہو قبول کرو مگر یا درکھو کہ خدا کے زور آور حملے ابھی ختم نہیں ہو گئے۔خدا نے اپنے مسیح سے بہت سے عجائبات قدرت دکھانے کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ سب عجائبات ظاہر ہو کر رہیں گے اور کوئی نہیں جو انہیں روک سکے۔مگر بدقسمت ہے وہ جو خدا کی طرف سے نشان پر نشان دیکھتا ہے اور ایمان کی طرف قدم نہیں بڑھاتا۔یاد رکھو کہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا کے ہر حصے میں اپنے قہری نشانوں کی تجلی دکھائے گا۔حتی کہ لوگ حیران ہو کر پکا راٹھیں گے کہ اس دنیا کو کیا ہونے والا ہے ؟ پس پیشتر اس کے کہ تمھاری باری آئے خدا سے ڈرو اور اس کی رحمت کے ہاتھ کو قبول کرو۔دیکھو صدیوں کے انتظار کے بعد خدا نے تمھاری طرف ایک مامور کو بھیجا ہے اور اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس مردہ دنیا کو پھر زندہ کرے۔پس اس کے اس ارادے کے رستے میں حائل مت ہو کیونکہ یہ ارادہ پورا ہو کر رہے گا۔اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔تم دنیا کے رشتوں اور دنیا کی دوستیوں اور دنیا کے مالوں اور دنیا کی عزتوں کی خاطر خدا کو چھوڑ رہے ہو مگرسن رکھو کہ یہ سب چیزیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور آخر پر ہر شخص کا معاملہ خدا کے ساتھ پڑنے والا ہے۔پس اپنی عاقبت کی فکر کرو اور اس دن سے ڈرو کہ جب سب تعلقات سے الگ ہوکر خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔خدا نے اپنی حجت تم پر پوری کر دی۔اور اپنے زبر دست نشانوں سے تم پر ثابت کر دیا کہ حق کس کے ساتھ