مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 205

۲۰۵ مضامین بشیر یہ وہی شمال مشرق کا زلزلہ ہے۔جس کا وعدہ دیا گیا تھا اور پھر صرف مجھے زندگی ہی نہیں دی بلکہ ایسا تصرف فرمایا کہ سب سے پہلے میرا ہی ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ شمال مشرق کا موعود زلزلہ یہی ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کا زلزلہ ہے اور جس رنگ میں کہ میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا وہ بھی قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کے زلزلہ کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں تو اس کے چند روز بعد میں نے ایک رات یہ محسوس کیا کہ مجھے بے خوابی کا عارضہ لاحق ہے اور نیند نہیں آتی۔حالانکہ عموماً مجھے بے خوابی کی شکایت نہیں ہوا کرتی۔میں اس بے خوابی پر حیران تھا۔اور وقت گزارنے کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا مجموعہ " البشری اٹھا کر اسے پڑھنا شروع کیا اور میں اسے صبح کے ساڑھے چار بجے تک اسے پڑھتا رہا۔آخر میں میری نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رویاء پر پڑی کہ بشیر احمد شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا مگر اس وقت بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ اس میں ۱۵ جنوری والے زلزلہ کی طرف اشارہ ہے۔اس کے بعد تھوڑی دیر کے لئے میری آنکھ لگ گئی اور جب میں صبح اٹھا تو دن کے دوران میں اچانک ایک بجلی کی چمک کی طرح میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ خواب اسی زلزلہ پر چسپاں ہوتی ہے اور پھر جب میں نے اس کے حالات پر غور کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہی وہ زلزلہ ہے جو ہندوستان کے شمال مشرق میں آنا تھا۔جس کے بعد میں نے اس کا ذکر حضرت مولوی شیر علی صاحب اور بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ کیا۔اور سب نے حیرت کے ساتھ اس سے اتفاق کیا کہ ہاں یہ وہی زلزلہ ہے۔اور پھر جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اب مناسب ہے کہ بشیر احمد ہی اس زلزلہ کے متعلق ایک مضمون لکھ کر شائع کرے۔اور اس جگہ یہ بیان کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رویاء میں جہاں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ زلزلہ خاکسار راقم الحروف کی زندگی میں آئے گا اور وہی سب سے پہلے اس کی طرف اشارہ کرنے والا ہوگا۔وہاں اس رویاء کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ زلزلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آنا مقدر تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاکسار کو شمال مشرق کی طرف اشارہ کرتے دیکھنا اور اس رویاء میں اس پیش گوئی کے ظہور کے وقت سے خود آپ کی ذات کا کوئی تعلق ظاہر نہ ہونا یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ زلزلہ آپ کی زندگی کے بعد آنا تھا۔چنانچہ اس کے متعلق بعض دوسرے الہامات میں صاف اشارہ بھی ہے جیسا کہ 9 مارچ ۹۰۶ء کا الہام ہے کہ :- رَبِّ لَا تُرِنِي زَلْزَلَةِ السَّاعَةِ ، ۸۵ یعنی ” اے خدا مجھے یہ قیامت کے نمونہ والا زلزلہ نہ دکھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔