مضامین بشیر (جلد 1) — Page 204
مضامین بشیر ۲۰۴ زلزلہ کا مرکز عرض بلد پر ۲۶ شمال اور طول بلد را ۸۵ شرق میں واقع ہے۔۵۲ پھر اخبارسٹیٹس میں رقم طراز ہے کہ : - وو " لمبے تجربے سے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کے شمال و مشرق کے زلزلے 66 کا مرکز آسام ہے۔۸۳ پھر لکھنؤ کا اخبار سرفراز لکھتا ہے :- جو زلزله ۱۹۰۵ ء میں وقوع پذیر ہوا اس کا مرکز شمال ومغرب ہند کی وادی کانگڑہ میں تھا۔اور اب اس ۱۹۳۴ء کے زلزلے کے متعلق اندازاہ ہوتا ہے کہ شمال و شرق ہند اس کا اصلی مرکز ہو گا۔۸۴ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیش گوئی کہ ہندوستان کا آئیندہ سخت زلزلہ ملک کے شمال مشرق میں آئے گا۔پوری شان اور پوری آب و تاب کے ساتھ پوری ہوگئی ہے اور سوائے اس کے کہ کسی کے کان اور آنکھ اور دل سب مسلوب ہو چکے ہوں۔کوئی شخص اس کی صداقت میں شبہ نہیں کر سکتا۔فبای حدیث بعد ذالك يؤمنون اس زلزلہ کی پیشگوئی کی طرف سب سے پہلے مرزا بشیر احمد کی طرف سے اشارہ ہوگا پانچویں علامت یہ تھی کہ یہ زلزلہ خاکسار مرزا بشیر احمد کی زندگی میں ہی آئے گا اور ایسا ہوگا کہ ابتداء خاکسار ہی اس پیش گوئی کی طرف توجہ دلائے گا۔یہ علامت بھی مندرجہ بالا رؤیا سے ہی ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ شمال مشرق کی سمت کی طرف خاکسار نے اشارہ کر کے کہا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا ہے۔اب دیکھ لو کہ یہ علامت بھی کس طرح ہو بہو پوری ہوئی ہے۔زندگی میں ایک دم کا اعتبار نہیں۔دنیا میں ہر روز بچے بھی مرتے ہیں اور جوان بھی مرتے ہیں اور بوڑھے بھی مرتے ہیں اور کوئی شخص کسی عمر میں بھی موت کے حملے سے محفوظ نہیں ہے مگر خدا نے آج سے ۲۷ سال پہلے اپنے مقدس مسیح کو خبر دی تھی کہ ہندوستان کے شمال مشرق میں ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے۔اور وہ زلزلہ تیرے بیٹے بشیر احمد کی زندگی میں ہی آئے گا۔اور وہی اس کی طرف اشارہ کر کے بتائے گا کہ یہ شمال مشرق کا موعود زلزلہ ہے۔اس پیشگوئی پر آج ۲۷ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر اس طویل عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے موت سے محفوظ رکھا اور مجھے اس وقت تک زندگی دی کہ میں اس زلزلہ کو دیکھوں اور لوگوں کو بتاؤں کہ