مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 164 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 164

مضامین بشیر ۱۶۴ اب اس کی پاداش میں تمہیں دنیا میں اس خدائی انعام سے محرومی رہے گی جو دنیا کے انعاموں میں سب سے بڑا انعام ہے۔یعنی حکومت وسلطنت۔لیکن یہ نہ سمجھو کہ تمہارا اخلاص اور تمہاری قربانیاں رائگاں گئیں۔بلکہ اس کے لئے تم مجھے آخرت میں حوض کوثر پر آکر ملنا۔وہاں تم آخرت کے انعاموں سے مالا مال کئے جاؤ گے۔اور خدا تمہاری سب کسریں نکال دے گا مگر دنیا میں حکومت واقتدار کا انعام اب تمہیں نہیں ملے گا۔گویا اس چھوٹے سے فقرہ میں آپ نے انصار کے دل میں یہ سبق پختہ طور پر جما دیا کہ اگر قومی طور پر مضبوط ہونا چاہتے ہو اور ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے کمزور ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ سنبھال کر چلو ورنہ ایک حصہ کا وبال دوسرے حصہ کو بھی اٹھانا پڑے گا۔اور اسی فقرہ میں آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ تم نے میرا دامن پکڑ کر دنیا کی نعمتوں کا لالچ کیا اب تمہیں دنیا کی نعمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا چاہیئے مگر چونکہ خیالات کی اس رو کے ساتھ فوراً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گویا انصار کی جماعت خدائی انعامات سے محروم رہی۔اس لئے آپ نے ساتھ ہی اس کا ازالہ فرما دیا کہ نہیں۔ایسا نہیں بلکہ خدا انہیں آخرت میں انعامات کا وارث بنائے گا۔اور چونکہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اس لئے اگر آخرت میں انعامات مل جائیں تو دنیا کی محرومی چنداں قابل لحاظ نہیں ہے۔آپ کے اس فقرہ میں یہ مزید لطافت ہے کہ گو آپ کا اصل منشاء اس موقع پر انصار کو تنبیہ کرنا تھا۔لیکن آپ نے انعام کے حصہ کو تو صراحت کے ساتھ لفظوں میں بیان فرما دیا۔مگر سزا اور محرومی کے مفہوم کو لفظوں میں نہیں بیان کیا۔بلکہ بین السطور رکھا یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اب تمہیں دنیا میں حکومت کا انعام نہیں ملے گا۔بلکہ صرف اس قدر فرما کر خاموش ہو گئے کہ اچھا اب تم مجھے آخرت میں ملنا مگر چونکہ یہ ایک تو بیخ کا موقع تھا آپ نے یہ بات نہیں کھولی کہ آخرت میں تم خدائی انعامات سے بہت بڑا حصہ پاؤ گے۔بلکہ صرف اس قدر فرمانے پر اکتفا کی۔کہ مجھے حوض کوثر پر ملنا۔یعنی اس حوض پر میرے پاس آنا۔جہاں ہر انعام اور ہر خوبی اپنی انتہائی کثرت میں پائی جائے گی۔جس میں اشارہ یہ تھا کہ دنیا کی محرومی کی تلافی آخرت کے انعاموں کی کثرت سے ہو جائے گی۔یہ صحرائے عرب کے اس امی نبی کا کلام ہے جو ظاہری علم کے لحاظ سے ابجد تک سے بے بہرہ تھا۔ایک اور موقع کی مثال مشیت ایزدی کے ماتحت ایک جنگ میں مسلمانوں کو ہزیمت ہوئی اور کئی صحابی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔بعد میں یہ لوگ شرم کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں آتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اُن کو مسجد کے کونے میں منہ چھپائے تاریکی میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔