مضامین بشیر (جلد 1) — Page 165
ܬܪܙ مضامین بشیر تو پوچھا تم کون ہو۔وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے رو کر عرض کیا۔يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ الْفَرَّرُونَ ، ہم بھگوڑے ہیں۔یا رسول اللہ آپ نے بے ساختہ فرمایا۔بَلْ انْتُمُ الْعَكَارُونَ۔۲۴ نہیں نہیں تم بھگوڑے نہیں ہو۔تم تو دوبارہ حملہ کے لئے تیار بیٹھے ہو۔اللہ اللہ کیا شان ہے۔میدان جنگ سے بھاگے ہوئے سپاہی ندامت میں ڈوبے جا رہے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہم آپ کو کیا مونہہ دکھا ئیں۔ہم تو میدان میں پیٹھ دکھا چکے ہیں۔آپ دیکھتے ہیں۔کہ ان کی ہمتیں گری جاتی ہیں۔فورا فرماتے ہیں کہ تم بھگوڑے کہاں ہو تم تو دوبارہ حملہ کرنے کے لئے پیچھے ہٹ آئے ہو۔میرے ساتھ ہو کر پھر جنگ کے لئے نکلو گے اور اس ایک لفظ سے گرے ہوئے پست ہمت سپاہی کو اس کی پستی سے اٹھا کر کسی بلندی پر پہونچا دیتے ہیں ! مطبوعه الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۳۳ء)