مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 163

۱۶۳ مضامین بشیر اسے کسی صورت میں ذلت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔دوسرے سعد کے فقرہ سے اور اس فقرہ کے کہنے کے انداز سے مسلمانوں کے دلوں میں ابوسفیان کے متعلق تحقیر کے جذبات پیدا ہو سکتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء اس کی دلداری کرنا تھا۔اس لئے آپ نے فوراً ابوسفیان کی شکایت پر سعد کو تنبیہ فرمائی۔اور مسلمانوں کے خیالات کو غلط رستے پر پڑنے سے روک لیا۔تیسرے آپ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ سعد کے مونہہ سے یہ بات بے اختیار نکلی ہے اور جان بوجھ کر نہیں کہی گئی اور پھر یہ سوچتے ہوئے کہ سعد اپنے قبیلہ کا سردار ہے۔حتی الوسع اس کی تحقیر بھی نہیں ہونی چاہیئے۔یہ حکم تو دیا کہ اس کے ہاتھوں سے سرداری کا جھنڈا لے لیا جائے مگر ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ یہ جھنڈا اس سے لے کر اس کے بیٹے کے سپر د کر دیا جائے تاکہ سعد کی بھی دلداری رہے اور کسی دوسرے کو بھی اس پر طعن کا موقع نہ پیدا ہو۔غور کرو۔ان مختصر سے الفاظ میں جو بے ساختہ آپ کے مونہہ سے نکلے ، آپ کی نظر کہاں کہاں تک پہنچی۔گویا ایک آن واحد میں آپ کے الفاظ نے کئی ذہنی دروازے جو نقصان دہ تھے ، بند کر دیئے اور کئی ذہنی دروازے جو نفع مند تھے وہ کھول دیئے۔غزوہ حنین کے موقع کی مثال غزوہ حنین کے بعد جب غنائم کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ والوں کی تالیف قلب کے خیال سے انہیں زیادہ حصہ دیا۔بعض جو شیلے اور کم فہم انصار کو اس پر شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر انعام مکہ والے لے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہونچی تو آپ نے انصار کو ایک علیحدہ جگہ میں جمع کیا۔اور ان سے کہا کہ مجھے ایسی ایسی خبر پہونچی ہے۔کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو سکے کہ لوگ تو بھیڑ بکری اور اونٹ لئے جاتے ہیں مگر تمہارے ساتھ خدا کا رسول جا رہا ہے۔انصار کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے بعض نادان نو جوانوں کے مونہہ سے یہ فقرہ نکل گیا تھا۔ہم خدا کے رسول کو لیتے ہیں۔ہمیں دنیا کے اموال کی رغبت نہیں۔آپ نے فرمایا : - اے انصار کے گروہ۔اب تم مجھے جنت میں حوض کوثر پر ہی ملنا۔‘۲۳ علم النفس کے ماتحت اس واقعہ کے پہلے حصہ کی تشریح واضح ہے۔کسی نوٹ کی ضرورت نہیں مگر آپ کا آخری فقرہ کچھ تشریح چاہتا ہے۔یہ ایک بہت سادہ اور صاف فقرہ ہے۔مگر علم النفس کے سانچے میں کس طرح ڈھل کر نکلا ہے۔آپ کا منشاء یہ تھا کہ تم میں سے بعض نے دنیا کا لالچ کیا ہے۔