مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 162 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 162

مضامین بشیر ۱۶۲ اپنے جگر گوشے نکال کر رکھ دیئے ہیں۔یعنی تم خوش ہو کہ خدا نے تمہارے لئے اتنا بڑا شکار جمع کر دیا ہے۔صحابہ کے خیالات کی رو فوراً پلٹا کھا گئی کہ یہ تو کوئی گھبرانے کا موقع نہیں ہے بلکہ خدا نے اپنے وعدوں کے مطابق ان روساء کفار کو ہمارے ہاتھوں تباہ کرنے کے لئے یہاں جمع کر دیا ہے اور اس طرح وہی خبر جو کمزور طبیعت مسلمانوں کے لئے پریشانی اور خوف کا باعث بن سکتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بے ساختہ نکلی ہوئی بات سے ان کے لئے خوشی اور تقویت کا باعث بن گئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فقرہ کسی غور وفکر کے نتیجہ میں نہیں فرمایا بلکہ ادھر آپ نے مکہ کے سپاہی کے مونہہ سے یہ الفاظ سنے اور صحابہ کے چہروں پر نظر ڈال کر گھبراہٹ کے آثار دیکھے اور اُدھر بے ساختہ طور پر آپ کے مونہہ سے یہ لفظ نکل گئے۔جیسا کہ ایک تیرا پنی کمان کے چلہ سے نکل جاتا ہے اور اس بات کے نتیجہ میں مسلمانوں کے خیالات کی رو پلٹا کھا کر فوراً اپنا رخ بدل گئی۔فتح مکہ کے موقع کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوسفیان رئیس مکہ کی دلداری منظور تھی۔اور آپ نے اس کے ساتھ اس بارے میں بعض وعدے بھی فرمائے تھے۔جب اسلامی لشکر نہایت درجہ شان وشوکت کے ساتھ اپنے پھر میرے لہراتا ہوا مکہ کی طرف بڑھا اور ابوسفیان ایک اونچی جگہ پر بیٹھا ہوا اس تزک واحتشام کو دیکھ رہا تھا۔تو اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے حضرت سعد بن عبادہ رئیس انصار نے جو اپنے قبیلہ کے سردار اور علم بردار تھے ابوسفیان کو سُنا کر کہا کہ آج مکہ والوں کی ذلت کا دن ہے۔ابوسفیان کے دل میں یہ بات نشتر کی طرح لگی۔اس نے فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : - ” آپ نے سنا سعد نے کیا کہا ہے۔سعد کہتا ہے کہ آج ملکہ کی ذلت کا دن ہے۔“ آپ نے فرمایا : - سعد نے غلط کہا۔آج تو مکہ کی عزت کا دن ہے۔سعد سے سرداری کا جھنڈا لے کر اس کے بیٹے کے سپر د کر دیا جائے۔‘۲۲ یہ ایک بے ساختگی کا کلام تھا۔مگر دیکھو تو اس میں علم النفس کی کتنی ابدی صداقتیں مخفی ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ مکہ والوں کی ذلت کے فقرہ سے یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوں تو مکہ والوں کی یہ ذلت ہے حالانکہ مکہ خواہ مفتوح ہو جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے آ رہا ہے۔تو اس کی عزت ہی عزت ہے۔اور پھر مکہ کا مقام ایسا ہے کہ