میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 95
83 حزب اللہ کی کمیٹی نہ تھی کیونکہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے کہ حزب اللہ غالب آیا کرتے ہیں اور شیطان خسارہ میں رہ کر ناکام ہو جاتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کو مان کر ہم گمراہ نہیں ہوئے بلکہ حق پر قائم ہو گئے ہیں۔کیونکہ درخت اپنے پھل سے شناخت کیا جاتا ہے اور مرزا صاحب کا ایسی منتظم جماعت اور قربانی کرنے والی جماعت کا قائم کرنا اس کی صداقت کو ثابت کرتا ہے۔مولوی صاحب بڑے عالم تھے مگر اپنا مافی الضمیر بیان کرنے سے قاصر اور بہت کم گو تھے آہستہ سے بولے کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔قرآن کریم اور احادیث میں ممانعت ہو چکی ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب معاف فرمانا آپ شریف آدمی ہیں مگر ایک طرف تو آپ مانتے ہیں کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا اور دوسری طرف کتاب والے نبی بلکہ آپ کے عقیدہ کے مطابق کلمے والے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کا آپ کو رات دن انتظار ہے۔آپ یہ دو قسم کے عقیدے کیسے بیان کرتے ہیں۔مہربانی فرما کر اس کی ذرا تشریح فرما دیں۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ اس کی تشریح یہی ہے کہ وہ نبی بن کر نہیں آئیں گے بلکہ انہوں نے یہ دعا کی تھی کہ مجھے امت محمدیہ میں امتی بنا کر بھیجا جائے اسے خدا تعالٰی نے منظور کر لیا اور اب وہ ضرور آئیں گے میں نے کہا کہ جو دعا ئیں حضرت عیسی علیہ السلام نے کی ہیں وہ قرآن پاک میں درج ہیں آپ اس مضمون کی آیت پڑھ دیں تاہم اس پر غور کر سکیں مگر آپ ایسی کوئی آیت نہیں پڑھ سکتے۔اگر یہ دعا منظور ہو ہی گئی تھی تو کیا ان کے آنے پر قرآن پاک میں جو بار بار ان کے بارے میں نبی و رسول لکھا ہے۔سب آیات نکال لی جائیں گی یا وہیں رہیں گی۔اگر ان آیات کو نکالا جائے تو قرآن پاک مکمل نہیں رہتا اور اگر نہ نکالی جائیں تو آپ تو نبی اور رسول ہی رہے۔اس کا حل کیا ہونا چاہئے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ اب مجھے نیند آرہی ہے ہم پھر کسی وقت علیحدہ باتیں کریں