میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 96 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 96

84 گے۔میں نے کہا اگر مجھے ابھی یہ اطلاع آئے کہ فلاں جگہ آریہ جلسہ کرنے والے ہیں تو میں تو اسی وقت چل پڑونگا اور وہاں جا کر معلوم کرونگا کہ وہ کہیں دین حق پر اعتراض تو نہیں کرتے اور اگر کرتے ہوں گے تو ساری رات ان سے سوال و جواب کرتا رہوں گا۔مولوی صاحب بولے کہ میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔میں نیند کو روک نہیں سکتا۔میرا شاگر د عثمان خان بولا کہ مولوی صاحب آپ اس علاقہ میں کام نہیں کر سکتے۔آپ کہیں جا کر سکول میں پڑھائیں ہمارے مولوی صاحب تو ساری ساری رات جاگ کر کام کرتے ہیں۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ قادیانی مولوی صاحب تو مقابلہ کرنے اور چلنے پھرنے میں سخت مضبوط ہیں اور مقابلہ دلائل سے کرتے ہیں اور خوش اخلاق بھی ہیں ہمیں تو غصہ ہی بہت جلد آجاتا ہے۔خدا جانے اس کی کیا وجہ ہے۔عثمان خان بولے امیں نے تو اسی لئے آپ سے کہا ہے کہ آپ کسی سکول میں پڑھائیں یہ منزل تو بڑی کٹھن ہے۔پورا پورا دماغ پر بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے چاہے کتنی ہی رات گذر جائے مولوی صاحب سو گئے اور ہم نبی کا مسئلہ حل کرتے رہے۔میں نے پہلے بھی انہیں اس مسئلہ سے روشناس کرایا تھا۔ایک دوست مسمی فتح خاں صاحب بولے کہ مولوی صاحب جتنے مخالفین آتے ہیں آپ ان سب کو کھانا کھلاتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہمارے نبی حضرت محمد ال نے اپنے مخالف یہود و نصاری کو بھی کھانا کھلایا کرتے تھے۔لہذا ان کے امتی ہونے کی حیثیت سے ان کی پیروی کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔فتح خاں صاحب بولے کہ ان مولویوں نے کبھی آپ کو بھی کھانا کھلایا؟ میں نے کہا کہ آج تک تو کبھی ایسا اتفاق ہوا نہیں آگے خدا جانے بعد میں ہم سب وہاں سے اٹھ کر سونے کے لئے چلے گئے۔اگلے دن صبح مولوی مهدی حسن صاحب کیلئے جائے رفتن نہ پائے ماندن میں نے ہی