میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 94
82 ہیں۔(۲) مرزا صاحب نے گمراہی پھیلائی۔(۳) دیو بند کی مولوی کمیٹی جس نے تمام مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا نا کام ہو گئی۔سب سے پہلے تو مولوی صاحب کا پہلا سوال ہی غلط بلکہ الغلط ہے۔کیونکہ نبی کو لوگ نہیں بناتے اور نہ ہی بنا سکتے ہیں نی ہمیشہ خدا تعالٰی ہی بناتا ہے اور پھر اس کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ نبی جس کام پر مبعوث ہوتا ہے اس میں کامیاب ہو کر جاتا ہے۔ہر ایک نبی کے زمانہ میں ایسا ہی ہوا ہے اور اگر نہی کے لفظ پر ہی غور کیا جائے تو یادہ خدا کا بنایا ہوا ہو گا اور یا پھر مفتری ہو گا۔اس کا دعوئی وہ خود ہی کر سکتا ہے۔خواہ وہ خدا تعالی کے حکم سے کرے یا افتراء کرے۔صادق نبی ہی کے آواز دینے پر لوگ ہدایت پائیں گے اور اگر نبی کا دعوی کرنے والا مفتری ہے تو لوگ اسے ماننے کے بعد بھی چھوڑ جائیں مجھے کیونکہ اس کی تعلیم اور اس کا اپنا عمل صادقوں جیسا نہ ہو گا۔اس لئے نبی کا دعوئی اس کی ذات سے ہی ہو سکتا ہے نہ کہ لوگ اسے بنائیں۔ہمارے سامنے یہ دو مثالیں موجود ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بھی خود ہی دعویٰ کیا تھا اور مسیح نے بھی خود ہی دعوی کیا ہے اس لئے مولوی صاحب یہ سوال تو کر سکتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔جب وہ یہ سوال کریں گے تو میں جوابا عرض کرونگا که اگر مرزا صاحب کا دعوئی صحیح نہ ہوتا تو وہ ایسی جماعت تیار نہ کر سکتے جو خدا تعالٰی کی محبت میں فنا ہو رہی ہے۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال ، جان ، وقت اور عزت سب کچھ دین حق کی ترقی پر ہی لگا دینے کے علاوہ نماز ، روزہ، حج، زکوۃ کی پابندی اور خدا کی وحدانیت کا اقرار ، تسجد کا شوق، قرآن کریم سے عشق شریف کا درد صحبت صالحین سے خوشی اعمال سوء سے نفرت اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنا اپنا شیوا بنائے ہوئے ہے۔اس کے بعد میں نے بیعت فارم سے دس شرائط پڑھ کر سنائیں اور انہیں بتایا کہ مولوی صاحب کی کمیٹی کا نا کام ہونا بھی بتاتا ہے کہ وہ ورود