میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 92 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 92

80 ہوں۔میں دیوبند پاس ہوں اور جمیعت العلماء نے مجھے اس بیت کا اہم مقرر کر کے بھیجا ہے اور میں ہی جمعہ پڑھاؤں گا اور یہ کہہ کر مصلے پر جم کر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد میں بھی بیت میں پہنچ گیا جہاں میں نے مولوی صاحب کو امام کے لئے مصلے پر براجمان پایا۔اس صورت حال کو دیکھ کر میں نے اپنے شاگردوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ آپ لوگ بہت ست ہیں کہ نہ تو ابھی تک بیت میں جھاڑو ہی دیا ہے اور نہ صفیں بچھائی ہیں۔وہ فورا کام میں لگ گئے اور میں وضو کرنے لگا۔انہوں نے مصلی جھاڑنے کے لئے مولوی صاحب کو وہاں سے اٹھایا۔جونہی انہوں نے مصلی جھاڑ کر بچھایا میں نے اس پر سنتیں پڑھنا شروع کر دیں۔پہلی اذان ہو چکی تھی اور سب لوگ جمع ہو چکے تھے لہذا میں نے دوسری اذان دلوا کر خطبہ شروع کر دیا۔میں نے اکرام ضیف کے متعلق خطبہ دیا۔مولوی صاحب بھی بیت کے ایک کو نہ میں بیٹھ کر خطبہ سنتے رہے اور پھر نماز بھی میرے پیچھے ہی پڑھ لی۔جب جمعہ ختم ہوا تو میں بڑی محبت سے مولوی صاحب سے ملا اور گھر سے شربت منگوا کر مولوی صاحب کو پلایا۔میں چونکہ کھانا لوہاری سے ہی کھا آیا تھا۔اس لئے میرا کھانا مولوی صاحب کے کام آیا۔وہاں میری ہندوؤں اور مسلمانوں سے عام واقفیت ہو چکی تھی اور سب بڑی محبت سے ملتے اور ایک بڑا عالم سمجھتے تھے۔یہ تمام برکتیں حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کے طفیل تھیں ورنہ تین جماعتیں پڑھا ہوا آدمی عالم کیسے کہلا سکتا ہے؟ میں نے مولوی صاحب سے بات کا آغاز کچھ اس طرح کیا " مولوی صاحب آپ کی تعریف ؟" بولے میں دیوبند کا سند یافتہ ہوں اور آگرہ سے اس گاؤں کے لئے بھیجا گیا ہوں۔میں نے کہا کہ بڑی خوشی ہوئی کہ آپ تشریف لے آئے ہیں میں بھی اکیلا گھبرایا ہوا تھا۔اب آپ بھی جائیں کہ کام کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کیا جائے۔آپ اس بات سے تو بخوبی آگاہ ہوں گے کہ میں جماعت احمد یہ قادیان سے تعلق