میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 91
79 صاحب بھی قادیان تشریف لے گئے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے عاجز محمد حسین کو تین ضلعوں یعنی پوری ، فرخ آباد اور ایٹہ کے حلقہ جات کا امیر مقرر کر دیا اب تو مجھ پر پہلے سے کہیں بڑی ذمہ داری پڑ گئی۔رات دن دوڑ دھوپ کر کے مینوں ضلعوں کی نگرانی کرنا پڑتی تھی۔جو بھی اس حلقہ کے لئے مجاہد جاتا پہلے میرے پاہی پہنچا اور میں اسے گڑھی یا کوہیٹہ یا لوہاری لگا دیتا تھا۔اسی طرح مکرم مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ میرے پاس پہنچے۔انہیں میں نے گو ہیٹہ لگا دیا۔ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب کو گڑھی میں اور ڈاکٹر احمد دین صاحب اور بابو محمد اسماعیل صاحب اور بعض دیگر مجاہدین کا مختلف حلقوں میں تقریر کر دیا۔مولوی مهدی حسن کا میری عدم موجودگی میں امامت پر قبضہ جمانا میرے گاؤں کے سب نوجوان میرے شاگرد تھے جس طرف میں جاتا تو کوئی نہ کوئی ضرور ساتھ چل پڑتا تھا۔ایک جمعہ کے روز میں لوہاری کا دورہ کرنے گیا۔میں نے سب گاؤں والوں سے کہا ہوا تھا کہ کوئی مسافر یہاں سے بھوکا نہیں جانا چاہئے اگر کبھی کوئی مولوی صاحب تشریف لائیں تو انہیں میں خود ہی سنبھالا کروں گا۔نے کسی کو کھانا وغیرہ نہیں دیتا۔میں مذکورہ جمعہ کے روز جاتے وقت یہ بھی کہہ گیا کہ جمعہ میں انشاء اللہ یہیں پڑھاؤں گا۔اسی دن گیارہ بجے کے قریب ایک مولوی صاحب بیت میں آبیٹھے۔ساڑھے بارہ بجے کے قریب جب منشی خاں صاحب نہانے کے لئے بیت میں آئے تو وہ مولوی صاحب ان سے کہنے لگے کہ اذان دے دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم اپنے مولوی صاحب کے آنے پر اذان دیں گے۔اسی اثناء میں اور لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ تمہارا مولوی میں