میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 90
78 حد تک جل گیا تھا۔حضور نے اپنی تقریر کے آغاز میں اعلان کیا کہ دوست چندہ لکھوائیں اور اتنے سو روپیہ میں اپنی طرف سے لکھواتا ہوں تاکہ اکبر خاں صاحب کا ایسا نیا اور پختہ مکان بن جائے جسے آگ نہ لگ سکے۔ہم سب لوگوں نے چندے لکھوانے شروع کر دیئے تو اکبر خاں صاحب حضور کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ میں حضور کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ میں اپنا مکان چندہ کی رقم سے نہیں بنوانا چاہتا کیونکہ اس طرح میرے شریک مجھے یہ طعنہ دیں گے کہ بالاخر مکان چندوں سے بنوایا ہے۔اس لئے حضور مجھے نقشہ سے باخبر کر دیں میں خود اس کے مطابق پختہ مکان بنوالوں گا۔لہذا حضور نے چندہ لکھوانے سے روک دیا۔بعدہ سب احباب نے کھانا کھایا۔روٹی گوشت کا انتظام تھا۔برتنوں کی کمی کی وجہ سے میرے حصہ میں ایک گڑوی" آئی جس میں مجھے سالن ڈال دیا گیا اس میں شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بھی کھانا کھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ ہم ہنس بھی رہے تھے کہ ایسے برتن میں اس سے قبل کبھی کھانا نہ کھایا تھا۔بعدۂ حضور نے مبلغین کو ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے اپنے حلقوں کو روانہ ہو جائیں اور میں آگرہ سے سوار ہو کر قادیان جا رہا ہوں۔حضور جب قادیان پہنچے تو مولوی شیر علی صاحب نے جان کی قربانی دینے والا پروگرام حضور کے سامنے پیش کیا۔حضور نے اسے ناپسند کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے خون اتنے ستے نہیں ہیں جنہیں ضائع کر دیا جائے۔بعد میں حضور کے اس ارشاد سے ہم سب کو مطلع کر دیا گیا۔حضور کی طرف سے " امیر المجاہدین " کے عہدہ پر تقرری انہی ایام میں مکرم اسلام صاحب کو قادیان سکول میں بلایا گیا اور مشی عبد الخالق