میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 83
71 بچوں کو بھی ساتھ ہی لیتے آنا۔ہمارا قافلہ نگلہ گھنو سے قادیان پہنچا اور چند دن ٹھہرنے کے بعد واپس نگہ گھنو پہنچے۔قادیان میں قیام کے دوران حضور نے میرے سارے حلقہ کے مفصل حالات دریافت کئے۔اور میں نے ان کے مفصل جوابات دیئے۔واپس پہنچ کر بڑی لڑکیوں کو بھی پڑھانا شروع کر دیا اس طرح میرے جاری کردہ سکول میں طلباء و طالبات کی تعداد پینتالیس کے قریب ہو گئی۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسلم صاحب فرخ آباد سے بچوں کا امتحان لینے آئے۔قاعدہ پڑھنے والے بچوں سے قاعده سنا قرآن پڑھنے والوں سے قرآن سنا اور بعدۂ سب کو کچھ نہ کچھ انعام دیا۔اس طرح سب بچے خوش ہو گئے۔نکہ گھنو میں جہاں ہم نماز پڑھتے تھے وہ دور نگلہ گھنو میں احمد یہ بہیت کی تعمیر نے چوپال ہی معلوم ہوتی تھی چنانچہ ایک دن میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر اس کے مینار بن جائیں اور بیت کے صحن میں کنواں اور غسل خانہ وغیرہ بن جائے تو یہ دور ہی سے بہت معلوم ہوگی۔میں نے اس بارہ میں حضور کی خدمت میں درخواست لکھی اور اپنا پروگرام بتایا۔حضور نے جواباً فرمایا کہ بہت جلد خرچ کا اندازہ لگا کر اطلاع دو کہ کتنے صد روپے خرچ ہونگے۔میں نے حضور کو لکھا کہ حضور میری منشاء یہ ہے کہ حضور صرف دس یا میں روپے تیر کا بھیج دیں باقی جو خرچ آئے گا وہ انہیں لوگوں سے لے کر پورا کیا جائے تاکہ انہیں بعد میں اس کی مرمت اور آبادی کا خیال رہے۔کیونکہ فلاں گاؤں میں انجمن کے روپیہ سے جو کچی بیت بنائی گئی تھی اس میں تو گاؤں والوں نے نماز بھی نہ پڑھی اور لپائی وغیرہ کا خیال بھی نہ رکھا جس کی وجہ سے وہ خود بخود ہی گر گئی۔لہذا ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے اور ان مقامی لوگوں سے ہی بیت بنوائی جانی چاہئے تاکہ اپنی بنائی ہوئی چیز کی یہ نگرانی بھی رکھ سکیں اور اسے آباد بھی کریں۔