میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 84 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 84

72 - حضور نے میری تجویز کو مناسب سمجھا اور میں روپے روانہ فرما دیئے۔میں نے دس روپے اپنی جیب سے ڈال کر سب سے پہلے بیت کے صحن میں ایک چھوٹا سا کنواں بنوایا اور پھر گاؤں کے احباب کو جمعہ کی نماز کے بعد اکٹھا کر کے چندہ وصول کیا۔کسی نے پانچ روپے اور کسی نے یہ کہا کہ ہم اپنی گاڑیوں پر اینٹیں لے آئیں گے اور غریبوں نے کہا کہ ہم مزدوری کریں گے۔وہاں کے رئیں جان محمد نے کہا کہ میں پچیس روپے اپنے گھر کی طرف سے دونگا میں نے کہا آپ کے گھر سے یکصد روپیہ پورا کرتا ہے۔وہ کہنے لگا کہ پھر میں کچھ بھی نہیں دیتا۔میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی نے چاہا تو آپ سے یکصد روپیہ ہی وصول کرونگا ورنہ میں دوسرے دیہات کے احباب سے بیت کے لئے مانگ لاؤں گا۔غرضیکہ وہ روپیہ دینے سے انکاری ہو گیا اور قدرے دل سے ناراض بھی مگر میں جانتا تھا کہ یہ امیر آدمی ہے زیادہ پیسے بھی دے سکتا ہے۔ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ نصف شب کے قریب جان محمد کی اہلیہ آئیں اور دروازے پر دستک دے کر اونچی آواز سے کہنے لگیں کہ جلدی میرے ساتھ گھر چلیں۔مظفر کے ابا کا سانس بند ہو رہا ہے۔میں وضو کر کے اس کے ساتھ گیا۔دیکھا تو نبض کمزور ہے۔سانس رکا ہوا ہے غرضیکہ نزع کا سا عالم طاری تھا۔میں نے کٹورے میں پانی منگوایا۔اس وقت وہاں گاؤں کے سب لوگ جمع تھے۔میں نے اس پانی پر دعا پڑھ کر اس پر پھونکا اور دل میں دعا کی کہ مولا کریم تو عزیز بھی تو حکیم بھی اور شانی بھی ہے۔تو اگر اس پانی میں ہی شفاء رکھ دے تو تیرا گھر بن جائے گا۔میں نے میچ سے پانی اس کے منہ میں ڈالا اور پانی خود بخود راستہ بناتا ہوا حلق سے اتر گیا۔سانس چلنے لگا۔میں نے ایک پیچ پانی اور ڈالا۔وہ بھی جلد بھی حلق سے اتر گیا۔پھر تیسرا میچ ڈالا وہ بھی بلا روک اتر گیا۔اب سانس درست ہونے لگا اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔پھر دودھ پر دعا کی اور وہ بھی اسی میچ سے پلایا۔ابھی