میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 82 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 82

70 کرنا ہی پڑھا سکتی ہے۔میں سات آٹھ سال تک کی بچیوں کو پڑھا رہا ہوں۔اس سے بڑی عمر والی لڑکیوں کو پڑھاتے ہوئے تو ویسے ہی شرم آتی ہے اور انہیں بھی مجھ سے پردہ نا چاہئے۔کہنے لگے کہ ہماری لڑکیاں روتی ہیں کہ ہمیں مولوی صاحب سے ہی پڑھایا جائے۔میں نے کہا کہ آپ انہیں تسلی دیں کہ چند دن وہ مزید صبر کریں۔انشاء اللہ انہیں بھی ضرور پڑھایا جائے گا۔میں نے اسی گاؤں سے تین لڑکے نصیر الدین خال صاحب۔مبارک خاں صاحب اور حبیب خاں صاحب قادیان برائے تعلیم بھیجے ہوئے تھے۔گاہے بگاہے ان کے خطوط آتے رہتے تھے۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں اس بارے میں مفصل چٹھی لکھی کہ حضور فارغ وقت میں میں نے بچوں کو تعلیم دینے کا ایک سکول کھولا ہوا ہے جہاں بچے قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔اب بڑی عمر کی بچیاں بھی پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں مگر میں نے انہیں پڑھانے سے انکار کر دیا ہے لیکن ان کے والدین بدستور اصرار کر رہے ہیں کہ انہیں ضرور پڑھایا جائے۔اگر حضور بھی یہ پسند کرتے ہیں کہ لڑکیوں کو ضرور پڑھایا جائے تو میرے نزدیک یہ طریق بہتر ہو گا کہ میری بیوی یہاں آجائے تو اس کی نگرانی میں میں لڑکیوں کو سبق دے دیا کروں گا۔اس طرح کسی قباحت کا اندیشہ نہ ہو گا ورنہ یہ دیہاتی لڑکیاں چار پائے چرانے والی ہیں۔کسی مسئلہ سے واقف نہیں ہیں۔اس لئے خطرہ ہے کہ کوئی بدنامی کی صورت پیدا نہ ہو جائے۔حضور کے جواب کا منتظر حضور نے بہت جلد جواب مرحمت فرمایا کہ لڑکیاں ضرور پڑھاؤ اور فورا اگر اپنی بیوی کو لے جاؤ۔دس یوم کی رخصت آپ کو دی جاتی ہے۔میں قادیان جانے کے لئے تیار ہوا تو ایک معمر محبوب خاں صاحب اور مائی ممتاز بیگم صاحبہ جن کا بیٹا نصیر الدین خاں صاحب قادیان میں تھے نیز مائی ممتاز کی لڑکی الطاف بیگم بھی میرے ہمراہ تیار ہو گئیں۔منشی عبد الخالق صاحب مبلغ لوہاری نے بھی کہا کہ میرے اور اسلم کے